انتخابی مصارف کی تفصیلات پیش نہ کرنے والے امیدواروں کے خلاف کارروائی

   

مقامی اداروں کے منتخب 40 ہزار عوامی نمائندے نااہل ، الیکشن کمیشن کی مزید 9778 امیدواروں کو نوٹس
حیدرآباد :۔ انتخابات میں صرف مقابلہ کرنا ہی کافی نہیں بلکہ انتخابی مصارف کی تفصیلات پیش کرنا بہت بڑی ذمہ داری ہے ۔ تب ہی انتخابی عمل مکمل ہوتا ہے ۔ انتخابات میں مقابلہ کرنے والے امیدوار یہ بھول جاتے ہیں یا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کون پوچھے گا اس طرح کا احساس رکھنے والے تلنگانہ مقامی اداروں میں مقابلہ کرنے والے 40 ہزار سے زائد امیدوار نا اہل قرار دیئے گئے ہیں ان میں کامیاب ہونے والے جہاں عہدوں سے محروم ہوگئے ۔ وہی شکست سے دچار ہونے والے تین سال تک انتخابات میں حصہ لینے سے محروم ہوگئے ۔ ریاست میں دو سال قبل 2018 میں گرام پنچایت اور منڈل پریشد کے انتخابات منعقد ہوئے ان انتخابات میں سرپنچ عہدہ کے لیے 36,501 امیدوار وارڈ ممبرس کے لیے 2,30,856 لاکھ امیدوار ایم پی ٹی سی کے لیے 19,095 اور زیڈ پی ٹی سی کے لیے 2429 امیدواروں نے مقابلہ کیا ۔ ریاستی الیکشن کمیشن کے رہنمایانہ خطوط کے مطابق مقامی اداروں کے انتخابات میں مقابلہ کرنے والے امیدواروں کو مقررہ وقت کے مطابق 45 دن میں انتخابی مصارف الیکشن آفیسر کے ذریعہ الیکشن کمیشن تک پہونچانا لازمی ہے ۔ اس کے برعکس مقابلہ کرنے والے تقریبا 40 ہزار امیدواروں نے انتخابی اخراجات کی تفصیلات پیش نہیں کی ۔ جن کے خلاف الیکشن کمیشن نے کارروائی کا آغاز کردیا ہے ۔ منڈل پریشد ڈیولپمنٹ آفیسرس ( ایم پی ڈی او ) کو احکامات جاری کرتے ہوئے کارروائی کی جارہی ہے ۔ ابھی تک سرپنچ کے لیے مقابلہ کرنے والے 36,501 امیدواروں میں 3917 کو نا اہل قرار دیا گیا اور 750 امیدواروں کو نوٹس جاری کی گئی ہے ۔ اس طرح بحیثیت وارڈ ممبرس مقابلہ کرنے والے 2,30,856 لاکھ امیدواروں میں 33,572 امیدواروں کو نا اہل قرار دیا گیا ہے اور 8000 امیدواروں کو نوٹس جاری کی گئی ہے ۔ ایم پی ٹی سی کے لیے مقابلہ کرنے والے 19,095 امیدواروں میں 3106 امیدواروں کو نا اہل قرار دیا گیا ۔ 866 امیدواروں کو نوٹس جاری کی گئی ہے ۔ زیڈ پی ٹی سی کے لیے مقابلہ کرنے والے 2429 امیدواروں میں 348 امیدواروں کو نا اہل قرار دیا گیا ہے ۔ اور 162 امیدواروں کو نوٹس جاری کی گئی ہے ۔ جنہیں نا اہل قرار دیا گیا ہے الیکشن کمیشن اس کا گزٹ نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہوئے وہاں دوبارہ انتخابات کرائے گا ۔۔