ماسک کے عدم استعمال پر جرمانہ نظرانداز، انتخابی مہم اور روڈ شو میں سماجی فاصلہ بالائے طاق، وزارت صحت فکرمند
حیدرآباد۔کورونا وباء پر قابو پانے کیلئے ماسک کے عدم استعمال کی صورت میں 1000 روپئے کا جرمانہ مقرر کیا گیا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے حکومت نے یہ فیصلہ واپس لے لیا ہو لہذا عہدیداروں کو کورونا قواعد پر عمل آوری کو یقینی بنانے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ملک بھر میں کورونا وباء سے نمٹنے کیلئے مرکزی حکومت نے وقفہ وقفہ سے جو رہنمایانہ خطوط جاری کئے ان میں ماسک کا استعمال اور سماجی فاصلہ کی برقراری کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ دہلی حکومت نے کورونا کے کیسس میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے ماسک کے عدم استعمال پر چالان کو ایک ہزار سے بڑھا کر 2000 روپئے کردیا ہے۔ تلنگانہ میں لاک ڈاؤن کے دوران اگرچہ ایک ہزار روپئے چالان کے احکامات برقرار تھے لیکن اس وقت بھی عوام نے ماسک کے استعمال میں کوتاہی سے کام لیا۔ اب جبکہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی انتخابی مہم عروج پر ہے تمام سیاسی جماعتوں نے کورونا قواعد کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ مہم کے دوران محلوں میں جگہ جگہ پدیاترا، عام جلسوں اور روڈ شو کے موقع پر عوام کا ہجوم دکھائی دے رہا ہے لیکن ماسک کے استعمال اور سماجی فاصلہ کی کسی کو پرواہ نہیں۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے انتخابی مہم کے دوران کورونا قواعد کی خلاف ورزی پر حکومت کو آگاہ کرتے ہوئے سختی سے نفاذ کا مشورہ دیا ہے۔ دوسری طرف اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے انتخابی مہم میں قواعد کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کو کوویڈ قواعد پر عمل آوری کی ہدایت دی ہے۔ شہر میں صورتحال کو دیکھیں تو ایسا محسوس ہوگا جیسے عوام و خواص کو کورونا سے نجات مل چکی ہے۔ وزراء ، ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی، سیاسی قائدین انتخابی مہم میں سڑکوں پر ہیں لیکن احتیاطی تدابیر کا کسی کو خیال نہیں۔ عہدیدار بھی خلاف ورزیوں پر آنکھیں موند چکے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے دوسری لہر کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے عوام کو چوکسی کی ہدایت دی ہے۔ پولیس کی جانب سے کوویڈ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کو چالانات کے بارے میں اختیارات دیئے گئے لیکن خود پولیس ملازمین کو ماسک کے استعمال کے بغیر بندوبست پر دیکھا جارہا ہے۔ تلنگانہ میں مجموعی کیسس کے 40 فیصد سے زائد گریٹر حیدرآباد میں پائے جاتے ہیں لیکن احتیاطی تدابیر کے معاملہ میں حیدرآباد کافی پیچھے ہے۔ محکمہ صحت کے ذرائع نے بتایا کہ متاثرین میں 31 تا 50 سال عمر کے افراد کی اکثریت ہے لیکن اس عمر کے افراد کو زیادہ تر خلاف ورزی کرنے والوں کے طور پر پایا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے کوویڈ 19 قواعد جاری کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کو سختی سے عمل آوری کی اجازت دی ہے۔الیکشن کمیشن نے انتخابی مبصرین کو پابند کیا ہے کہ وہ ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے ساتھ ساتھ کوویڈ قواعد پر عمل آوری کو یقینی بنائے تاکہ عوام کو کورونا وباء سے بچایا جاسکے ۔