خانگی ایویشن کمپنیوں سے پارٹیوں کا ربط، ملک میں چارٹرڈ ہیلی کاپٹرس کی کمی کا احساس، انتخابی مہم میں ہیلی کاپٹر ہر ایک کی ضرورت
حیدرآباد۔/24 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اور دیگر 4 ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کی مہم میں شدت کے ساتھ ہی ہیلی کاپٹرس کی مانگ میں اضافہ ہوچکا ہے۔ برسراقتدار پارٹی ہو یا پھر اہم اپوزیشن پارٹیاں ان کے قائدین کی جانب سے انتخابی مہم میں ہیلی کاپٹرس کا استعمال معمول بن چکا ہے جس کے نتیجہ میں خانگی ہیلی کاپٹرس کمپنیوں نے کرایہ میں بھی اضافہ کردیا ہے۔ ہیلی کاپٹر کے استعمال کے نتیجہ میں قومی اور ریاستی انتخابی مہم کے اہم اسٹارس کم وقت میں زائد علاقوںکا احاطہ کرسکتے ہیں لہذا بڑی اور چھوٹی پارٹیوں میں چارٹرڈ ہیلی کاپٹرس کے استعمال کا رجحان بڑھ چکا ہے۔ انتخابی ریالیوں کیلئے ہیلی کاپٹرس کے کرایہ میں 25 تا 50 فیصد کا اضافہ کردیا گیا۔ خانگی ہیلی کاپٹرس کمپنیوں کیلئے انتخابات سے بڑھ کر کوئی موقع ایسا نہیں ہوتا جن میں وہ بہتر آمدنی حاصل کرسکیں۔ ایک غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے کئے گئے سروے کے مطابق ملک میں تقریباً 254 چارٹرڈ ہیلی کاپٹرس ہیں جن میں سے 190 کا عوامی شعبہ کے اداروں، دفاعی سرگرمیوں اور دیگر شعبہ جات سے تعلق ہے اور 60 تا 70 ہیلی کاپٹرس انتخابی مہم اور ریالیوں کیلئے دستیاب ہیں۔ ملک کی دو اہم قومی پارٹیوں کی جانب سے ہیلی کاپٹرس کا زیادہ استعمال کیا جاتا ہے جن میں بی جے پی اور کانگریس شامل ہیں۔ مرکز میں بی جے پی کے اقتدار کے باعث ہیلی کاپٹر کی مانگ اور استعمال بی جے پی قائدین کی جانب سے زیادہ ہے۔ بنگلور کی ایک خانگی ہوا بازی کمپنی کا کہنا ہے کہ زیادہ تر قومی پارٹیوں کی جانب سے ہیلی کاپٹرس کا استعمال زیادہ ہے جبکہ علاقائی پارٹیاں گاہے ماہے اور کم ہی ہیلی کاپٹرس کی بکنگ کرتی ہیں۔ ہیلی کاپٹرس کی مشہور کمپنیوں میں پون ہنس، گلوبل وکٹرا، ہیلیگو چارٹرس، ہیرٹیج ایویشن اور ہمالین ہیلی سرویسیس شامل ہیں۔ راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور تلنگانہ میں چارٹرڈ ہیلی کاپٹرس کی مانگ زیادہ دیکھی گئی تاہم میزورم جہاں 7 نومبر کو رائے دہی ہوگی بہت کم بکنگ کی گئی ہے۔ چینائی کی چارٹرڈ فلائیٹ ایویشن میں مشن کنٹرولر بنیش پال کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹرس کے سلسلہ میں ان کی کمپنی کو 50 فیصد سے زائد معلومات اور تفصیلات کیلئے ربط قائم کیا گیا اور ان میں سے 17 تا 19 فیصد بکنگ میں تبدیل ہوئے ہیں۔ زائد کرایہ پر ہیلی کاپٹرس کی اڈوانس بکنگ کا رجحان بھی دیکھا جارہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چینائی سے روانہ ہونے کی صورت میں چارٹرڈ فلائیٹ کا کرایہ فی گھنٹہ تقریباً 4.5 لاکھ روپئے ہوتا ہے جبکہ حیدرآباد سے پرواز کی صورت میں یہ فی گھنٹہ 6 لاکھ اور 6.75 لاکھ کے درمیان ہوتا ہے۔ ہندوستان میں سیاسی سرگرمیوں کیلئے ہیلی کاپٹرس کے رجحان میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے مزید ہیلی کاپٹرس کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ امریکہ میں چارٹرڈ ہیلی کاپٹرس کی تعداد تقریباً 10 ہزار ہے جبکہ ہندوستان میں ہیلی کاپٹرس کی مجموعی تعداد تقریباً 294 ہے اور حال ہی میں ہیلی کاپٹرس کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ چارٹرڈ فلائیٹس ایویشن نے ہیلی کاپٹر کے کرایوں کے سلسلہ میں مختلف شرحوں کا تعین کیا ہے۔ سنگل انجن کے ہیلی کاپٹرس کیلئے فی منٹ 18 ڈالر سے آغاز ہوتا ہے اور یہ ڈبل انجن کے ہیلی کاپٹرس کیلئے فی منٹ 35 ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ چارٹرڈ فلائیٹ کا کرایہ 17 ڈالر وصول کیا جارہا ہے۔ اسی دوران تلنگانہ میں بی آر ایس، کانگریس اور بی جے پی نے اضلاع میں طوفانی انتخابی مہم کیلئے ہیلی کاپٹرس کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے۔ عام طور پر چیف منسٹرس، مرکزی وزراء یا قومی قائدین ہیلی کاپٹرس کا استعمال کرتے رہے ہیں لیکن اب ریاستی وزراء اور ارکان اسمبلی بھی ہیلی کاپٹرس کے استعمال میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ عام آدمی جس طرح گاڑیوں کا استعمال کرتا ہے سیاسی پارٹیاں اور دولتمند قائدین ہیلی کاپٹرس میں سفر کرتے ہوئے انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔جہاں تک تلنگانہ کا سوال ہے بی جے پی کی انتخابی مہم میں وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ، بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا، اور مرکزی وزراء نے ایک سے زائد مرتبہ حصہ لیا جن کیلئے سرکاری اور خانگی دونوں ہیلی کاپٹرس حاصل کئے گئے تھے۔ صدر کانگریس ملکارجن کھرگے اور کانگریس کے قومی قائدین سونیا گاندھی، راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی بھی انتخابی مہم میں ہیلی کاپٹر کا استعمال کرچکے ہیں۔ چیف منسٹر کے سی آر نے مہم کے پہلے مرحلہ میں تقریباً 10 اسمبلی حلقہ جات کا احاطہ کیا اور انہوں نے بھی ہیلی کاپٹر کے استعمال کا آغاز کردیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ زیادہ تر قومی قائدین ڈبل انجن کے ہیلی کاپٹرس کو ترجیح دیتے ہیں جو سنگل انجن کے مقابلہ زیادہ محفوظ تصور کئے جاتے ہیں۔اگرچہ دونوں کے کرایہ میں کافی فرق ہے لیکن سیفٹی اور سیکوریٹی کے اعتبار سے ڈبل انجن ہیلی کاپٹرس کو ترجیح دی جارہی ہے ، یہی وجہ ہے کہ سنگل انجن ہیلی کاپٹرس رکھنے والی کمپنیاں اپنے ہیلی کاپٹرس کو ڈبل انجن میں تبدیل کرنے کی تیاری کررہی ہیں۔