انتخابی مہم کا اختتام، کل 119 اسمبلی حلقہ جات میں رائے دہی

   

2290 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ، 3 کروڑ 26 لاکھ رائے دہندے، اتوار کو نتائج کا اعلان
حیدرآباد۔/28 نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات کیلئے آج شام انتخابی مہم کا اختتام ہوا اور 30 نومبر کو رائے دہی ہوگی۔ چیف الیکٹورل آفیسر وکاس راج نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی مہم کے اختتام کے ساتھ ہی سوشیل میڈیا پر انتخابی مہم پر امتناع رہے گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ایسے اشتہارات جن کی الیکشن کمیشن کی کمیٹی سے اجازت حاصل کی گئی ہے انہیں پرنٹ میڈیا میں اشاعت کی گنجائش رہے گی۔ وکاس راج نے انتخابی تیاریوں کی تفصیلات سے واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ مہم کے اختتام کے ساتھ ہی ہر طرح کی سرگرمیوں پر پابندی رہے گی اور شخصی طور پر بھی امیدوار رائے دہندوں سے ملاقات نہیں کرپائیں گے۔ وکاس راج نے کہا کہ ٹی وی، ریڈیو اور کیبل نیٹ ورک پر مہم پر پابندی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر سلپ پر کسی بھی پارٹی کا انتخابی نشان شامل نہیں کیا جاسکتا۔ رائے دہی کے اختتام کے نصف گھنٹے تک ایگزٹ پول پر پابندی رہے گی۔ انتخابی ڈیوٹی پر متعین 1.48 لاکھ سرکاری عہدیدار اور ملازمین نے پوسٹل بیالٹ کے ذریعہ رائے دہی میں حصہ لیا۔ ریاست بھر میں 27094 مراکز پر ویب کاسٹنگگ کی سہولت ہے۔ 7571 علاقوں میں پولنگ مراکز کے باہر بھی مکمل نگرانی رہے گی۔ ریاست بھر میں جملہ 35655 پولنگ مراکز قائم کئے گئے ہیں۔ رائے دہندے فوٹو شناختی کارڈ یا پھر کوئی اور شناختی ثبوت اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں۔ پولنگ اسٹیشنوں میں سیل فون اور الیکٹرانک آلات پر پابندی رہے گی۔ وکاس راج نے بتایا کہ ریاست بھر میں تلاشی مہم کے دوران 737 کروڑ روپئے ضبط کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رائے دہی کے دن ریاست کے تمام خانگی اداروں، آئی ٹی کمپنیوں اور دیگر اداروں میں تعطیل کا اعلان کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ایسے ادارے جو رائے دہی کے دن کام کریں گے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کو رائے دہی میں حصہ لینے کی سہولت فراہم کرنے کیلئے تعطیل کا اعلان کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 اسمبلی اور 2019 لوک سبھا الیکشن میں بعض اداروں کی جانب سے تعطیل نہ دینے کی شکایات ملی ہیں۔ تاہم اس مرتبہ تمام خانگی اداروں میں تعطیل کو یقینی بنایا جائے گا۔ انتخابی مبصرین خانگی اداروں کا دورہ کریں گے۔ اسی دوران رائے دہی کے پیش نظر حکومت نے تعلیمی اداروں کو چہارشنبہ اور جمعرات دو دن تعطیلات کا اعلان کیا ہے۔ وکاس راج نے بتایا کہ رائے دہی کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور انتخابی عملہ ایک دن قبل متعلقہ پولنگ مراکز پہنچ جائے گا۔ الیکشن کمیشن نے اس مرتبہ 80 سال سے زائد عمر کے رائے دہندوں کیلئے گھر پر رائے دہی کی سہولت فراہم کی ہے۔ ریاست میں رائے دہندوں کی جملہ تعداد 32602799 ہے جن میں مرد 16298418 جبکہ خواتین 16301705 ہیں۔ سرویس ووٹرس کی تعداد 15406 ہے جبکہ این آر آئی ووٹرس 2944 ہے۔ 18 سے 19 سال عمر کے رائے دہندوں کی تعداد 999667 ہے۔ 119 اسمبلی حلقہ جات میں 2290 امیدوار میدان میں ہیں جن میں 221 خواتین اور 2068 مرد امیدوار ہیں۔ 30 نومبر کو صبح 7 تا شام 5 بجے رائے دہی رہے گی۔ ماویسٹ سے متاثرہ علاقوں میں شام 4 بجے رائے دہی ختم کردی جائے گی اور ایسے اسمبلی حلقہ جات کی تعداد 13 ہے۔ رائے دہی کے پرامن انعقاد کیلئے مرکزی فورسیس کی 375 کمپنیاں اور ریاستی پولیس کے 50 ہزار ملازمین تعینات رہیں گے۔ ووٹوں کی گنتی 3 ڈسمبر کو ہوگی۔