انجمن اسلام کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی پدم شری اعزاز کیلئے نامزد

   

ممبئی : ممبئی کے مشہور ومعروف تعلیمی،سماجی اور ثقافتی ادارہ انجمن اسلام کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی کو صدر جمہوریہ ہند نے 75 ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر پدم شری کے اعزاز سے نوازا ہے اور آئندہ مہینے راج پتی بھون کے اشوکا ہال میں م عقد ایک پُر وقار تقریب میں انہیں صدر کے دست مبارک سے اعزاز دیا جائے گا۔ گزشتہ شب وزارت داخلہ کے اعلامیہ میں اس کی اطلاع دی گئی۔مہاراشٹرا کی 10 اہم شخصیات میں ڈاکٹر ظہیر قاضی بھی شامل ہیں۔ جوکہ 14 برس سے انجمن اسلام کے صدر کی حیثیت سے سرگرم ہیں اوراس دور میں ان کی دور اندیش قیادت کے اثرات نظرآتے ہیں۔وہ 40،برس سے تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہیں، اس سال انجمن اسلام اپنے قیام کے 150، سال مکمل کررہا ہے اور وہ اس موقع پرتعلیم دینے والے اداری انجمن اسلام کے سربراہ ہیں۔ پدم شری ایوارڈ نے دیڑھ سوسالہ تقریب میں چار چاند لگا دیئے ہیں۔واضح رہے کہ انہیں وزیر اعظم نریندر مودی نے دو مواقع پر ایک سرکردہ ماہر تعلیم کی حیثیت سے اقلیتی تعلیم کے مسائل اور پالیسیوں پر بات کرنے اور اردن کے بادشاہ کے دورے کے دوران مدعو کیا ۔ڈاکٹر ظہیرقاضی مینجمنٹ کے زمرے میں سب سے زیادہ ووٹوں کے ساتھ ممبئی یونیورسٹی کے سینیٹ کے ممبر کے طور پر منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے سینیٹ کی پوری مدت خدمات انجام دیں اور اعلیٰ اور تکنیکی تعلیم کیلئے پالیسیوں کی تشکیل میں کردار ادا کیا۔ان کے MIT، بوسٹن، USA کے دورے کے نتیجے میں 20 اکتوبر 2022 کو مفاہمت نامے پر دستخط کرنے میں تعاون ہوا۔ انجمن اسلام ہندوستان میں MIT، بوسٹن، USA کے ساتھ تعاون کرنے والا پہلا تعلیمی ادارہ بن گیا۔
انہیں ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک سابق طلباء تنظیم نے 21 اکتوبر 2022 کو ہارورڈ یونیورسٹی میں ٹیڈ جیسی ٹاک دینے کیلئے مدعو کیا تھا۔انہیں 25 اکتوبر 2023 کو آکسفورڈ یونیورسٹی کے اسلامک ریسرچ سینٹر میں بین الاقوامی طلباء کے ساتھ سیشن اور بات چیت کیلئے بھی مدعو کیا گیا تھا۔جبکہ 27 اکتوبر 2023 کو ویسٹ منسٹر یونیورسٹی کے ساتھ ایم او یو کو آگے بڑھانے کیلئے بات چیت کیلئے مدعو کیا گیا تھا، اسلام ٹی وی لندن نے 28 اکتوبر 2023 کو ہندوستان میں اقلیتی تعلیم پر ایک لائیو بات چیت کیلئے مدعو کیا جس کے 20 لاکھ پیروکار ہیں۔سبھی جانتے ہیں کہ انجمن اسلام ،ملک میں آج اقلیتی فرقہ کا سب سے بڑا تعلیمی،سماجی اور ثقافتی ادارہ ہے اور جوتقریبا دیڑھ سوسال سے قوم وملت کی خدمت میں مصروف ہے ، انجمن اسلام کی بنیاد قوم وملت کے چند درد مند اور باشعور شخصیات نے 1874ء میں رکھی،تاکہ مسلمانوں کی تعلیمی اور سماجی حیثیت کو بلند کیا جاسکے ۔ انجمن اسلام کے بانی اور سابق عہدیداروں نے ہندوستان کی آزادی کی جد و جہد میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان عظیم شخصیات میں ایک جسٹس بدر الدین طیب جی بھی شامل تھے ،جو انڈین نیشنل کانگریس کے تیسرے صدر منتخب کیے گیے اور بمبئی ہائی کورٹ کے پہلے بھارتی جج اوربمبئی ہائی کورٹ کے پہلے چیف جسٹس کے ساتھ ساتھ ایک ممتاز مجاہد آزادی بھی تھے او ان کی قیادت میں اقلیتی فرقے کیلئے معاونین نے تعلیمی ادارہ قائم کرنے کا خواب دیکھا اور انجمن اسلام کا قیام عمل میں آیا۔