انسان کی سچائی پر رشتہ طے کرنے میں آسانیاں، سیاست و ملت فنڈ کا دو بہ دو پروگرام، سید انوار الھدیٰ اور دیگر کا خطاب

   

دوبہ دو پروگرام کی جھلکیاں
٭ سیاست اور ملت فنڈ کے زیر اہتمام منعقدہ رشتوں کے دوبہ دو ملاقات پروگرام میں جناب سید انوار الھدیٰ (آئی پی ایس) سابق ڈائرکٹر جنرل پولیس نے شرکت کی اور مختلف کاؤنٹرس کا مشاہدہ کرتے ہوئے خوشنودی کا اظہار کیا۔
٭ جناب انوار الھدیٰ نے کہا کہ قابل مبارکباد ہیں سیاست و ملت فنڈ کہ انہوں نے ملت اسلامیہ کے والدین کی رہبنری و رہنمائی کرتے ہوئے ان کے لئے پلیٹ فارم ترتیب دیا تاکہ اس کے ذریعہ والدین اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کے رشتوں کا انتخاب کرتے ہوئے سکون و اطمینان کے ساتھ زندگی گذار سکے۔
٭ جناب سید فاروق احمد نے کہا کہ ماضی میں عورت کو نحوست تصور کیا جاتا لیکن آپ ؐ نے عورت کو جو مقام و مرتبہ دیا آج اس سے زائد مرتبہ دینا چاہ رہی ہے لیکن اسلام کے مرتبہ سے بڑا مرتبہ عورت کو دینے سے قاصر ہے۔
٭ پروگرام کا 4 بجے شام اختتام عمل میں آیا۔ مقررین نے والدین پر یہ بھی زور دیا کہ شادیوں میں ایک کھانا و ایک میٹھا، فضولیات، ویڈیو گرافی، دوسرے اندھے رسومات کو ترک کریں تو اس سے رب کی رضا و خوشنودی حاصل ہوگی۔
٭ ڈاکٹر سیادت علی نے کہا کہ رشتوں کے انتخاب میں اللہ اور اس کے رسول عربی ؐ کی رضا کو ملحوظ رکھیں تو آگے چل کر کامیاب ہی کامیاب ہوگی۔

حیدرآباد۔ 12 مارچ (سیاست نیوز) شادی کے لئے رشتے آسمانوں میں طئے ہوتے ہیں اور زمین پر اس کی تکمیل کی جاتی ہے۔ مبارکباد کے مستحق ہیں وہ والدین جنہوں نے اپنے لڑکے اور لڑکی کے رشتہ کے انتخابات اسلامی اصول و ضوابط کو اپنا منبع و طور بنایا۔ ضرورت اس بات کی ہے والدین شادیوں میں اسراف، مال و زر خرچ کرنے کے بجائے ان نوبیاہ لڑکے اور لڑکے لئے مال رکھیں گے تو ان کی آئندہ گذرنے والی زندگی کامیاب ہوگی ۔ ان خیالات کا اظہار جناب سید انوار الھدیٰ (آئی پی ایس) سابق ڈائرکٹر جنرل پولیس نے سیاست ملت فنڈ کے زیر اہتمام 126 واں دوبہ دو ملاقات پروگرام سے کیا، جو کے ایچ کے فنکشن ہال چھرہ، آصف نگر میں منعقد ہوا۔ جناب سید انوار الھدیٰ نے سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے سیاست و ملت فنڈ کے ذمہ داروں کو مبارکباد دی جنہوں نے دونوں شہروں ہی نہیں اضلاع اور دوسری ریاستوں میں اس طرح کے پروگرام منعقد کرتے ہوئے والدین کے لئے آسانیاں فراہم کیں۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اولاً رشتہ کی تلاش میں پہل کریں اچھا سا رشتہ تلاش کریں اور رب کائنات سے دعا بھی کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خوشگوار زندگی کے گذرنے کی ایک راہ یہ بھی ہے کہ میاں بیوی اپنے معاملات میں سچ کہیں اور جھوٹ کہنا اس سے رب کی ناراضگی حاصل ہوتی ہے۔ انسان جب سچائی کو اختیار کرے گا تو اس کے لئے رشتوں میں آسانیاں پیدا کردی جاتی ہیں۔ جناب منظور احمد نے جناب سید انوار الھدیٰ کا خیرمقدم کیا اور تعارف پیش کیا۔ جناب سید فاروق احمد نے کہا کہ اسلام نے عورت کی عزت و توقیر کو بڑھاوا دیا۔ اسلام نے عورت کو گھر، معاشرہ و سماج میں عزت دی اور انہیں کھویا ہوا مقام یاد دلوایا اور بتایا کہ عورت کے ذریعہ ہم اپنی زندگی جنت بھی اور جہنم بھی بناسکتے ہیں۔ محمد عبدالحکیم نے کہا کہ والدین بڑی محنت، لگن و جستجو کے ساتھ پال پوس کر ایک لڑکی کو تعلیم و تربیت سے گذارکر شادی کرتے ہیں تاکہ وہ سسرال جاکر خوشی خوشی زندگی گذار پائے لیکن اکثر گھرانوں میں دیکھا جارہا ہے کہ کم عمر لڑکیاں ہوتی ہیں اور شادی ہوئے دو تین ماہ ہوتا ہی نہیں معمولی معمولی سی بات پر اختلافات سے ایک دوسرے خاندان میں دراڑ پیدا کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر ناظم علی نے کہا کہ لڑکی کو چاہئے کہ وہ امور خانہ داری سے واقف ہو، شادی کو سادگی سے انجام دینے کی کوشش کریں۔ انہوں نے تلقین کی ڈاکٹر سیادت علی نے کہا کہ رشتوں کے انتخاب میں اللہ رسول ؐ کی رضامندی کو ملحوظ رکھیں، نفس کی خواہشات کے غلام نہ بنیں، انہوں نے ترکی میں حالیہ زلزلہ نے جو قیامت صغریٰ ڈھایا اس سے سبق حاصل کرنے پر زور دیا۔ پروگرام میں جناب سید اکبر، محمد عبدالرحیم، محمد ضمیر الدین، شاعر جناب اشفاق آصفی، محمد امتیاز الدین، قاضی محمد سراج الدین رضوی صدر مظہر ملت اکیڈیمی اور دوسروں نے کہا کہ جناب زاہد علی خان اور جناب ظہیر الدین علی خان اور جناب عامر علی خان کی یہ کوشش کہ ملت اسلامیہ کے لڑکوں اور لڑکیوں کو اس پروگرام کے ذریعہ رشتہ ازدواج سے منسلک کیا جائے ثمر آور ثابت ہو رہی ہے۔ پروگرام میں بھی لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے علیحدہ کاؤنٹرس جو تعلیمی بنیادوں پر ترتیب دیئے گئے جس میں آمنہ فاطمہ، غوثیہ بیگم، لطیف النساء، صالح بن عبداللہ باحازق، محمد احمد، تسکین، ڈاکٹر ناظم علی، ڈاکٹر سیادت علی، عظمیٰ محمدی، ثانیہ، شاہانہ، شہناز، آمنہ خان، لطیف النساء، غوثیہ بیگم، فردوس، ثمینہ، ثناء، کریمہ، کوثر جہاں، تسکین اور کمپیوٹر سکشن پر والینٹرس نے والدین کی مدد کی۔ سوپر وائزرنگ کی حیثیت سے فرزانہ، شیخ نظام الدین، خالد محی الدین اسد، محمد نصر اللہ خان، مقصود، احمد علی نے تعاون کیا۔ جناب صالح بن عبداللہ باحازق نے کارروائی چلائی اور شکریہ ادا کیا۔ اس پروگرام کو یوٹیوب، فیس بک، سیاست ٹی وی، انسٹا گرام پر بھی پیش کیا گیا۔ 4 بجے شام پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔