پارٹی میں مشتبہ تصور، قائدین کی نقل و حرکت پر سخت نظر، وفاداریوں کی تبدیلی کا بھی امکان
حیدرآباد ۔ یکم ۔ جنوری (سیاست نیوز) ریاست کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کی نظروں میں اپنی جماعت کے کئی قائدین مشتبہ ہونے لگے ہیں اور کہا جا رہاہے کہبھارت راشٹر سمیتی قائدین اپنے ہی ان قائدین کو مشتبہ تصور کررہی ہے جن کے خلاف انفورسمنٹ ‘ سی بی آئی اور انکم ٹیکس کی امکانی کاروائی ہوسکتی ہے لیکن اب تک نہیں ہوئی ہے اسی طرح کانگریس قائدین تلگو دیشم سے پارٹی میں شامل ہونے والے قائدین کو مشتبہ تصور کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ عین انتخابات سے قبل وہ بی جے پی یا تلگودیشم میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں اسی طرح بھارتیہ جنتا پارٹی بھی اپنے ان قائدین کے متعلق مشتبہ ہے جو بی آر ایس سابقہ ٹی آر ایس کے علاوہ کانگریس اور تلگودیشم سے بی جے پی میں شمولیت اختیار کئے ہیں۔سیاسی جماعتوں میں موجود صف اول کے قائدین کی حکمت عملی اور سیاسی چالبازیوں کو دیکھتے ہوئے کہا کہ جارہا ہے کہ بی جے پی سے بی آر ایس میں شمولیت اختیار کرنے والے قائدین بھی برسراقتدار جماعت کے اندر کیا ہورہا ہے اس کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے پارٹی کی جانب سے ہی روانہ کئے گئے ہیں۔ برسر اقتدار جماعت سے تعلق رکھنے والے صف اول کے قائدین پارٹی کے ان قائدین کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں جن پر امکانی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ‘ سی بی آئی یا انکم ٹیکس کے دھاوے کئے جاسکتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اطمینان کے ساتھ ہیں ۔ٹی آر ایس سے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد کچھ مدت گذارتے ہوئے جو قائدین بی آر ایس میں واپس ہورہے ہیں ان کو بھی مشتبہ قائدین کے زمرہ میں رکھا جا رہاہے اور ان کو حساس معلومات اور منصوبہ بندیوں سے دور رکھنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔تلنگانہ میں انتخابی سال کے آغاز کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں کے قائدین کی وفاداریوں کے تبدیل ہونے کا موسم شروع ہوچکا ہے اور کئی قائدین جو اپنی پارٹیوں میں سرکردہ قائدین تصورکئے جاتے ہیں وہ اقتدار کی حامل یا اقتدار سے قربت رکھنے والی سیاسی جماعتوں سے رابطہ میں رہتے ہوئے اپنے مستقبل کو تابناک رکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور وہ اپنی ذات کے لئے پارٹی کو نقصان پہنچانے کے مرتکب بننے کے ساتھ ساتھ پارٹی اور اس کے قائدین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے ساتھ دھوکہ دہی کا شکار بنا رہے ہیں۔م