انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی کارروائیوں میں غیر معمولی اضافہ

   

سال 2014 کے بعد 27 گنا اضافہ ریکارڈ ، راجیہ سبھا میں وزیر کا جواب
حیدرآباد۔27 جولائی (سیاست نیوز) ملک بھر میں 2014کے بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی کاروائیوں میں 27گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی کاروائیوں میں ہونے والے اضافہ کے سلسلہ میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے عائد کئے جانے والے الزامات کے مطابق ہندستان میں بی جے پی نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو حکومت اپوزیشن کے خلاف استعمال کر رہی ہے اسی لئے کاروائیوں میں 27گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ سال 2004-2014کے دوران جب کانگریس اقتدار والی یو پی ایس حکومت تھی اس مدت میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے 112دھاوے کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور سال 2014سے2022 کے دوران انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے کی گئی کاروائی اور دھاؤوں کی تعداد 3010 تک پہنچ چکی ہے ۔ مرکزی مملکتی وزیر برائے فینانس پنکج چودھری نے راجیہ سبھا میں پوچھے جانے والے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سال 2014 کے بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی کاروائیوں میں ہونے والے اضافہ کی بنیادی وجہ زیر التواء شکایات پر عدم کاروائی ہے اور ان مقدمات کی یکسوئی کے لئے حکومت کی جانب سے سخت اقدامات اور کاروائی کے سلسلہ میں رپورٹ طلب کئے جانے کے باعث انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی تحقیقات اور کاروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہو ںنے ایوان میں دیئے گئے اپنے بیان کے دوران کہا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے جو مقدمات کی تحقیقات کی جاتی ہیں ان میں تحقیقات کے دوران ہونے والے انکشافات اور نئے چہروں کے شامل ہونے کے سبب مقدمات اور کاروائیوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔مرکزی مملکتی وزیر فینانس نے بتایا کہ منی لانڈرنگ کے مقدمات میں تحقیقات کے دوران ہونے والے انکشافات اور ان سے پوچھ تاچھ کے علاوہ دھاؤوں کے سبب مقدمات مضبوط ہوتے ہیں اسی لئے مقدمات اور کاروائیوں کی تعداد میں اضافہ کے علاوہ ملزمین کے جرم ثابت کئے جاسکتے ہیں۔م