2004 ء میں تعمیراتی کاموں کے بلوں کی ادائیگی کیلئے دو کروڑ روپئے رشوت طلب کی تھی: کے ایس ٹی پی
ترواننت پورم، 4 نومبر (یواین آئی) کیرالا میں محکمہ ویجلنس کے ڈائریکٹر کے پاس ایک شکایت درج کراتے ہوئے موجودہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف رشوت طلب کرنے کے سنگین الزامات کی ازسرنو اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ یہ معاملہ 2004 میں کیرالا اسٹیٹ ٹرانسپورٹ پروجیکٹ (کے ایس ٹی پی) کے تحت ملائیشیا کی کمپنی پاتھی بیل کی جانب سے انجام دیے گئے سڑک کی تعمیر کے کام سے متعلق ہے ۔شکایت کنندہ ساجن نے الزام عائد کیا ہے کہ گیانیش کمار نے مکمل کیے گئے تعمیراتی کاموں کے بلوں کی ادائیگی جاری کرنے کے لیے کمپنی سے دو کروڑ روپے رشوت طلب کی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مبینہ طور پر ادائیگیاں روک دیے جانے کے باعث پاتھی بیل کے ملائیشیائی پراجیکٹ انجینئر لیسی بین نے خودکشی کرلی تھی۔ ساجن اس وقت اس منصوبے کے لیے تعمیراتی سامان فراہم کرنے والے ٹھیکیدار تھے ۔پاتھی بیل کمپنی کو تقریباً 215 کروڑ روپے کے سڑک تعمیراتی منصوبے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا، جسے تین سال میں مکمل کیا جانا تھا۔ تاہم، اراضی کے حصول میں تاخیر کے باعث منصوبے کی پیش رفت متاثر ہوئی۔ دوسری جانب، مکمل کیے گئے کاموں کے بلوں کی ادائیگی مبینہ طور پر وقت پر نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں ٹھیکیداروں اور مزدوروں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔کمپنی کے چڈیامنلم کیمپ میں 100 سے زائد ملازمین تعینات تھے ۔ ادائیگیاں زیر التوا رہنے کے باعث ٹھیکیدار اور مزدور اپنے بقایاجات کی وصولی کے لیے مسلسل لیسی بین اور اسسٹنٹ پراجیکٹ ڈائریکٹر سکومارن سے رابطہ کر رہے تھے ۔ یہ دونوں ملائیشیا کے شہری تھے ۔شکایت کے مطابق، ان دونوں عہدیداروں نے ٹھیکیداروں کو بتایا تھا کہ کے ایس ٹی پی کے انجینئروں نے کئی بل منظور کرلیے ہیں، لیکن متعلقہ چیکس گیانیش کمار روک رہے ہیں۔ اس وقت گیانیش کمار بھی اس منصوبے سے وابستہ تھے ۔ ساجن کا الزام ہے کہ دونوں عہدیداروں نے انہیں بتایا تھا کہ گیانیش کمار ادائیگیوں کی منظوری اور اجرائی کے لیے دو کروڑ روپے رشوت طلب کر رہے ہیں۔ساجن کے مطابق، کمپنی انتظامیہ نے واضح کردیا تھا کہ وہ رشوت کی کسی بھی رقم کی ادائیگی کو منظوری دینے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ٹھیکیداروں اور مزدوروں کے مسلسل دباؤ کے بعد لیسی بین نے بنگلورو میں پاتھی بیل کے ایک دوسرے منصوبے سے رقم کا انتظام کیا تھا، تاکہ زیر التوا بقایاجات کا کچھ حصہ ادا کیا جاسکے ۔ اس رقم میں ساجن کو ملنے والی ادائیگی بھی شامل تھی۔ یہ رقم اس یقین دہانی پر فراہم کی گئی تھی کہ کے ایس ٹی پی کے زیر التوا بلوں کی ادائیگی ہونے کے بعد اسے واپس کردیا جائے گا۔
شکایت کنندہ نے مزید بتایا کہ بعد میں کے ایس ٹی پی کے انجینئروں کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ تین یا چار بل پہلے ہی منظور کیے جاچکے تھے ، لیکن ان سے متعلق چیکس جاری نہیں کیے گئے تھے ۔ ان کے مطابق، لیسی بین نے انہیں بتایا تھا کہ کمپنی کی جانب سے مبینہ طور پر دو کروڑ روپے رشوت دینے سے انکار کے باعث تقریباً 17 کروڑ روپے کی ادائیگی روک دی گئی ہے ۔