سابق ڈسٹرکٹ ججس کو بحیثیت لا آفیسرس مقرر کرنے تلنگانہ وقف بورڈ کا فیصلہ
حیدرآباد۔19فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ نے بورڈ کے شعبہ لیگل کے استحکام کے لئے اقدامات کا آغاز کرتے ہوئے قانونی مشاورت اور اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے سابق ججس کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے دیوانی و فوجداری مقدمات میں مہارت رکھنے والے سابق ڈسٹرکٹ ججس کو بہ حیثیت لاء آفیسرمقرر کرنے کے احکام جاری کردیئے ہیں ۔صدرنشین وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان نے بتایا کہ لیگل شعبہ کے استحکام کے لئے اضافی اسٹینڈنگ کونسل کے تقرر کے علاوہ لاء آفیسرس سے مشاورت اور ان کے جواب کی تیاری میں مدد کے لئے مزید افراد کے تقرر کے اقدامات کئے جائیں گے تاکہ وقف بورڈ کے تمام مقدمات میں مؤثر پیروی کو یقینی بنایا جاسکے کیونکہ تلنگانہ ہائی کورٹ میں ایک دن میں کئی مقدمات فہرست میں شامل ہوتے ہیں لیکن ان میں پیروی کے لئے وکلاء کی تعداد کم ہونے کے سبب مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا تھا۔ صدرنشین نے چیف اکزیکیٹیو آفیسر جناب سید خواجہ معین الدین کو لیگل شعبہ کو مستحکم بنانے کے سلسلہ میں ہدایات جاری کرتے ہوئے سابق ججس کی خدمات کے حصول اور ان کی نگرانی میں مقدمات کے جواب تیار کروانے کی تاکید کی ۔ذرائع کے مطابق وقف بورڈ کے عہدیداروں نے 2سابق ججس ‘ 2 اضافی لاء آفیسرس کے علاوہ 4 اضافی اسٹینڈنگ کونسل کے تقرر کے سلسلہ میں احکامات جاری کردیئے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ اسٹینڈنگ کونسل کو ان کی اہلیت اور صلاحیت کے علاوہ تجربہ کی بنیاد پر مقدمات تفویض کئے جائیں گے اور ضرورت پر پڑنے پر وقف بورڈ سینیئر وکلاء کی خدمات کے حصول سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ محمد مسیح اللہ خان نے بتایا کہ وقف بورڈ کے لیگل شعبہ کے سلسلہ میں موصول ہونے والی مسلسل شکایات اور عدالتوں میں زیر دوراں مقدمات کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا گیا ہے او ر لیگل شعبہ کے استحکام کے ساتھ ساتھ جن شعبوں سے متعلق مقدمات ہیں ان کے عہدیداروں کو بھی ان سے مربوط کیا گیا ہے ۔ جناب سید خواجہ معین الدین سی ای او نے بتایا کہ وقف بورڈ کی جائیدادوں کے تحفظ کے معاملہ میں اب جن اقدامات کا آغاز کیا گیا ہے ان کا مقصد اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صدرنشین و قف بورڈ اور اراکین وقف بورڈ کے علاوہ عہدیداروں سے مشاورت کے ذریعہ بورڈ کے حالات کو بہتر بنانے کے علاوہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ و ان کی آمدنی میں اضافہ کے اقدامات پر غور کیا جا رہاہے۔ صدرنشین و قف بورڈ نے بتایا کہ وقف بورڈ کے لیگل شعبہ میں سدھار اور اسے کارکردبنانے کے عمل کے نتائج آئندہ چند ماہ کے دوران نظر آئیں گے اور اس دوران وقف بورڈ کی جانب سے دیگر شعبہ جات میں بھی بڑے پیمانے پر اصلاحات کے ذریعہ وقف بورڈ کو ایک متحرک اور فعال دفتر میں تبدیل کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔