درخواستوں کی وصولی شروع نہیں ہوئی ۔ دیگر طبقات سے درخواستوں کی وصولی کا آغاز ۔گذشتہ سال کی رقومات کی عدم اجرائی
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔22 نومبر۔ تلنگانہ میں مسلمانو ںکا کوئی پرسان حال نہیں اور مسلم مسائل کے حل اور ان کو والے فوائد میں تاخیر کے متعلق استفسار کرنے والا کوئی ہے۔ حکومت تلنگانہ کی اوورسیز اسکالرشپس کیلئے درخواستوں کی وصولی کا عمل ایس سی ‘ بی سی ‘ ای بی سی اور ایس ٹی طبقہ کیلئے شروع ہوچکا ہے لیکن مسلم طلبہ کی درخواستوں کیلئے تاحال تواریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ۔ حکومت کی جانب سے اقلیتی نوجوانوں کیلئے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ کیلئے جاری کی جانے والی اسکالر شپ ’چیف منسٹراوورسیزاسکالرشپ فار میناریٹیز‘ کی درخواستوں کی وصولی عمل میں نہیں لائی جا رہی ہے جبکہ ایس سی ‘ ایس ٹی طلبہ کیلئے موجود اوورسیز اسکالر شپ’امبیڈکر اوورسیز ودیا ندھی‘اسکیم کی درخواستوں کی وصولی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بی سی اور ای بی سی طلبہ کیلئے ’’مہاتما جیوتی بھا پھولے اوورسیز اسکالر شپس ‘کیلئے بھی درخواستیں وصول کی جار ہی ہیں ۔ بی سی و ای بی سی طلبہ کیلئے درخواستوں کے ادخال کی آخری تاریخ 31نومبر ہے لیکن اقلیتی طلبہ کیلئے اب تک درخواستوں کی طلبی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی سال گذشتہ جن درخواستوں کی یکسوئی کی جاچکی ہے اور جن طلبہ کو ایس ایم ایس کے ذریعہ اسکالرشپس کی منظوری کی توثیق کی جاچکی ہے انہیں رقومات بھی جاری نہیں کی گئی ہیں۔ اعلی عہدیداروں کی جانب سے مختلف امور میں اقلیتوں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کی جانے لگی ہے لیکن طلبہ کے مستقبل سے اگر کھلواڑ کیا جاتا ہے تو حکومت طلبہ کے مستقبل کی تعمیر کے بجائے انہیں تاریک کرنے کی مرتکب ہوگی ۔ حکومت کی اوورسیز اسکالرشپس کی درخواستوں کی وصولی میں بھی اگر امتیاز برتا جاتا ہے تواس بات کی ضمانت کون دے سکتا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں سماجی مساوات اور تمام طبقات کی مجموعی ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ایوان اسمبلی اور دیگر فورمس کے علاوہ متعدد نمائندگیوں کے باوجود محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کا یہ رویہ تکلیف دہ ہے ۔تمام طبقات کے طلبہ سے اوورسیز اسکالرشپس کی درخواستیں وصول کی جار ہی ہیں اور اقلیتی طلبہ سے درخواستیں لینے میں ہی تاخیر کی جاتی ہے تو ان کی اسکالرشپس کی اجرائی میں بھی تاخیر ہوگی۔ منتخبہ عوامی نمائندوں اور اعلیٰ عہدیداروں کو بجٹ کی اجرائی کے علاوہ ان امور پر بھی خصوصی توجہ دینی چاہئے کیونکہ اگر ان امور کو نظرانداز کیاجاتا رہتا ہے تو منظم انداز میں اقلیتی نوجوانوں کو ترقی سے محروم کیا جاتا رہے گا۔م