انتخابی مہم میں جونیئر اسد اویسی اور نورالدین اویسی توجہ کا مرکز، مجلس کی تاریخ میں ارکان اسمبلی کے جانشین ٹکٹ سے محروم، عوام میں مختلف سوالات
حیدرآباد ۔8۔نومبر (سیاست نیوز) حیدرآباد کی مسلم سیاست میں سیاسی وارث کو متعارف کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی مقامی جماعت مجلس نے اسمبلی انتخابات میں اس مرتبہ دو ارکان اسمبلی کو ٹکٹ سے محروم کردیا ہے اور ٹکٹ سے محروم ارکان کے افراد خاندان میں کسی کو سیاسی وارث بنانے سے انکار کیا۔ حیدرآباد میں اسمبلی انتخابات کی مہم نے مسلمانوں میں کئی سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ مقامی جماعت مجلس جو اپنے احیاء سے لے کر آج تک خاندانی وراثت کا ایک تسلسل ہے لیکن پارٹی میں کسی اور کو اپنا وارث تیار کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ گزشتہ دنوں چارمینار کے رکن اسمبلی ممتاز احمد خاں کو جس وقت صدر مجلس اسد اویسی نے ٹکٹ سے محروم کرنے کی اطلاع دی تو انہوں نے اپنے فرزند کو ٹکٹ دینے کی خواہش کی تاکہ ان کے طویل سیاسی سفر کا فرزند کے ذریعہ تسلسل جاری رہے لیکن مجلسی قیادت نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ آئندہ کسی موقع پر غور کیا جائے گا ۔ قیادت نے دونوں ارکان اسمبلی کو طبعی عمر کی بنیاد پر ٹکٹ سے محروم کیا اور قابل اور نوجوانوں کو موقع دینے کی بات کہی گئی ۔ جن حلقہ جات سے موجودہ ارکان اسمبلی کو معزول کیا گیا ، وہاں جن امیدواروں کا اعلان ہوا ہے، ان میں کوئی بھی نوجوان نہیں ہیں۔ جہاں تک ان کی قابلیت کا سوال ہے ، اس بارے میں رائے دہندوں کی رائے مختلف ہے۔ حیدرآباد کے عوام کو اس بات پر حیرت ہے کہ پارٹی نے کسی اور قائد کو اپنا جانشین مقرر کرنے کی اجازت نہیں دی لیکن اویسی برادران ابھی سے اپنے جانشینوں کو عوام میں متعارف کر رہے ہیں۔ صدر مجلس اسد اویسی کے فرزند صلاح الدین اویسی مختلف اسمبلی حلقہ جات میں پیدل دورہ کے موقع پر موجود رہے اور پارٹی کیڈر کی جانب سے ان کی آؤ بھگت کی جارہی ہے۔ تعلیمی اداروں کو تعطیلات نہیں ہیں ، باوجود اس کے اسد اویسی کے جانشین انتخابی سرگرمیوں میں اپنے والد کے ساتھ شانہ بشانہ دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ پارٹی کے عام جلسوں اور اہم مواقع پر اپنے والد کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ پارٹی کیڈر کا کہنا ہے کہ اسد اویسی ابھی سے اپنے جانشین کا عوام سے تعارف کرا رہے ہیں۔ مرحوم صدر صلاح الدین اویسی نے بھی اسد اویسی اور اکبر اویسی کا کم عمری میں ہی عوام سے تعارف کرایا تھا۔ دوسری طرف فلور لیڈر اکبرالدین اویسی نے بھی انتخابی مہم میں اپنے فرزند نورالدین اویسی کو اپنے ساتھ رکھا ہے۔ انتخابی سرگرمیوں سے قبل نورالدین اویسی کو کبھی بھی سیاسی سرگرمیوں میں نہیں دیکھا گیا تھا لیکن جیسے ہی بڑے بھائی نے اپنے جانشین کو عوام کے درمیان پیش کیا، چھوٹے بھائی نے بھی اپنے فرزند کا تعارف کرانے میں دیر نہیں کی۔ چندرائن گٹہ اسمبلی حلقہ میں پیدل دورہ میں نور الدین اویسی اپنے والد کے ساتھ ہیں اور ان کا پارٹی کے ابتدائی صدور اور سرگرم کارکنوں سے تعارف کرایا جارہا ہے۔ نورالدین اویسی نے ایم بی بی ایس کی تکمیل کرلی اور وہ سالار ملت ایجوکیشنل ٹرسٹ کے ٹرسٹی اور سکریٹری ہیں۔ پہلا موقع ہے جب اکبر اویسی نے انہیں سیاسی سرگرمیوں میں شامل کیا ہے جبکہ وہ اپنے فرزند کو سیاست میں داخل کرنے کے امکانات سے انکار کرچکے ہیں۔ اکبر اویسی نے پرچہ نامزدگی کے ادخال کے وقت بھی اپنے فرزند کو ساتھ رکھا۔ دونوں بھائیوں کی جانب سے اپنے جانشینوں کو عوام میں متعارف کرنے پر کئی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ دونوں میں کس کو پہلے الیکشن میں حصہ لینے کا موقع ملے گا۔ اسمبلی انتخابات کی مہم میں سرگرم مجلسی کیڈر کو اس بات پر حیرت ہے کہ اویسی برادران نے اپنے جانشیوں کو عوام کے درمیان پیش کرنے میں عجلت سے کام لیا ہے ۔ عوام یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا سیاسی وارثین کو تیار کرنے کا اختیار صرف اویسی خاندان کو ہے ؟ مجلس کی تاریخ میں شائد ہی کوئی مثال ایسی ہو جہاں والد کے بعد بیٹے کو اسمبلی کا ٹکٹ دیا گیا ہو۔ ڈاکٹر وزارت رسول خاں اور وراثت رسول خاں دونوں بھائیوں کو ٹکٹ دیا گیا تھا۔ ابراہیم بن عبداللہ مسقطی ، محمد امان اللہ خاں ، سید سجاد اور افسر خاں کے جانشینوں کو ٹکٹ سے انکار کیا گیا۔ سابق ارکان اسمبلی نے احمد حسین مرحوم کے فرزند جعفر حسین معراج کو ٹکٹ دیئے جانے کی واحد مثال موجود ہے لیکن یہ ٹکٹ والد کی حیات میں نہیں دیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ممتاز احمد خاں اور احمد پاشاہ قادری دونوں نے اپنے جانشینوں کو ٹکٹ دینے کی خواہش کی لیکن ان کی درخواستوں کو یہ کہتے ہوئے نظر انداز کردیا گیا کہ پارٹی میں جانشین کا تصور نہیں ہے ۔ پارٹی قیادت جب وراثت کی بنیاد پر چل رہی ہے تو پھر ارکان اسمبلی کو جانشین تیار کرنے کی اجازت کیوں نہیں؟