ممبئی، 28 اگست (یو این آئی)مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر مراٹھا برادری کو او بی سی کوٹہ سے ریزرویشن دیا گیا تو اس سے مراٹھا سماج کو سخت نقصان پہنچے گا، اس لیے مراٹھا سماج کو اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ذمہ داری بھی مراٹھا برادری پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے مفادات کا مطالعہ کرے اور مناسب مطالبہ کرے ۔ فڑنویس نے واضح کیا کہ اے سی ای بی سی ریزرویشن میں سیاسی ریزرویشن کی گنجائش نہیں ہے ۔ اگر سیاسی ریزرویشن کا مقصد ہے تو الگ معاملہ ہے ، لیکن اگر یہ لڑائی سماجی اور معاشی تبدیلی کے لیے ہے ، اگر یہ نوکریوں اور تعلیم میں داخلوں کے لیے ہے ، تو دانشور طبقے کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ آپ نے ماضی میں بھی دیکھا ہے کہ اس تحریک میں کون لوگ پیش پیش تھے اور آج بھی اس تحریک کے لیے وسائل کون فراہم کر رہا ہے ، یہ سب واضح ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمارا مقصد اس تحریک کو سیاسی زاویے سے نہیں بلکہ سماجی نقطہ نظر سے دیکھنا ہے ۔
کچھ سیاسی جماعتیں مراٹھا تحریک کو اپنی سیاست کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن آخرکار انہیں نقصان ہوگا، فائدہ نہیں۔ فڑنویس نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت نہ تو مراٹھا سماج کے ساتھ ناانصافی ہونے دے گی اور نہ ہی او بی سی سماج کے ساتھ۔ انہوں نے کہا کہ مراٹھا برادری کو ریزرویشن پہلے ہی دیا گیا ہے اور عدالت نے بھی اس کی توثیق کی ہے ۔ کسی کا ریزرویشن نہیں چھینا جائے گا، تاہم سب کو جمہوری دائرے کے اندر رہتے ہوئے اپنی آواز بلند کرنی چاہیے ۔