ہنمکنڈہ کے کیریئر گائیڈنس پروگرام نے طلبہ کو نئی اُڑان دی ، جناب عامر علی خان و دیگر مہمانان کا خطاب
ہنمکنڈہ ۔24 مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)اسلامک انفارمیشن سنٹر، پوچمّاں میدان ورنگل میں ’’امنگ 2026‘‘ کے عنوان سے کریئر گائیڈنس کم ایس ایس سی اسکول ٹاپرس ایوارڈ فنکشن کا شاندار پیمانے پر انعقاد عمل میں آیا۔ پروگرام میں طلبہ، والدین، اساتذہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی معزز شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ یہ پروگرام معروف صحافی اسماعیل ذبیح کی جانب سے منعقد کیا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد ایس ایس سی امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی، ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور انہیں بہتر مستقبل کے لیے مؤثر کریئر رہنمائی فراہم کرنا تھا۔ اس موقع پر 40 ایس ایس سی ٹاپرس کو منتظمین کی جانب سے مہمان خصوصی جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست و سیاست ٹی وی کے ہاتھوں ایوارڈس اور تہنیت پیش کی گئی، جس پر طلبہ اور ان کے سرپرستوں نے مسرت کا اظہار کیا۔ اس تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی جناب عامر علی خان نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ صرف امتحانات میں کامیابی تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنی زندگی کا واضح مقصد متعین کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل کو جدید تعلیم، ہنر مندی اور مثبت سوچ کے ذریعے اپنے مستقبل کو روشن بنانا ہوگا اور معاشرے کی ترقی میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ مہمان اعزازی ڈاکٹر انیس احمد صدیقی نے کہا کہ آج کے طلبہ ہی کل کے معمار ہیں اور انہی کے ہاتھوں قوم و ملت کا مستقبل وابستہ ہے۔ انہوں نے طلبہ کو محنت، دیانت داری اور لگن کے ساتھ آگے بڑھنے کی تلقین کی تاکہ وہ اپنے والدین، اساتذہ اور سماج کا نام روشن کرسکیں۔ ایک اور مہمانِ اعزاز محمد معصوم علی نے تعلیم کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم صرف امیروں کے لیے نہیں بلکہ ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔ دیگر مہمانانِ اعزازی میں مرزا قمر علی بیگ، عبد القیوم، محمد اقبال، محمد نصیر الدین، سید سبحان الدین، محمد محمود، محمد رضوان اور مرزا امیر علی بیگ شامل تھے۔تقریب کے دوران تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس یونین (TUWJU) ضلع ورنگل کے کنوینر جناب ایم۔ فتح اللہ بیگ ریاض کو اردو صحافیوں کی نمائندگی، ان کے مسائل کے حل اور صحافتی خدمات کے اعتراف میں مہمانِ خصوصی جناب عامر علی خان صاحب کے ہاتھوں تہنیت و شال پوشی سے نوازا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے اردو صحافیوں کو درپیش موجودہ مسائل اور مشکلات پر مشتمل ایک یادداشت بھی پیش کی، جس میں اردو صحافیوں کے حقوق، سہولیات اور سرکاری سطح پر درپیش مسائل کے حل کا مطالبہ کیا گیا۔ پروگرام کے اختتام پر منتظمین نے تمام مہمانوں، طلبہ، والدین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔