اپریل کے دلچسپ انتخابی مقابلے

   

پی چدمبرم
(سابق مرکزی وزیر داخلہ و فینانس)

ملک کی چار ریاستوں آسام ، کیرالا ، ٹاملناڈو اور مغربی بنگال کے ساتھ ساتھ مرکزی زیر انتظام علاقہ پڈوچیری میں 9 اپریل، 23 اپریل اور 30 اپریل کو اسمبلی انتخابات (رائے دہی) کا انعقاد عمل میں آئے گا۔ حالیہ برسوں میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کیرالا ، ٹاملناڈو اور مغربی بنگال میں بی جے پی ، اپنی کٹر حریف سیکولر جماعتوں کو پورے زور و شور کے ساتھ چیلنج دے رہی ہیں ۔ باالفاظ دیگر حالیہ برسوں میں بی جے پی پہلی مرتبہ ان ریاستوں میں بی جے پی انتہائی مضبوط بائیں بازو مرکز یا بائیں بازو سیاسی جماعتوں کو چیلنج کر رہی ہے ۔ اگر دیکھا جائے تو نظریاتی لحاظ سے کیرالا میں یو ڈی اے ایف اور ایل ڈی ایف دونوں مرکز کے بائیں جانب ہیں۔ ٹاملناڈو میں ڈی ایم کے (DMK) کے زیر قیادت اتحاد جس میں ملک کی سب سے قدیم سیاسی جماعت کانگریس بھی شامل ہے اور مغربی بنگال میں اے آئی ٹی سی / ٹی ایم سی کھلے عام بائیں مرکز جماعتیں ہیں۔ یہ سب دستور دقاقیت پارلیمنٹ / / مقننہ کی بالادستی ، سیکولرازم سماجی انصاف ، مساوات کے ساتھ ساتھ ترقی و فلاحی و بہبودی اقدامات ، صحافت کی آزادی اور آزادانہ و فراخدلانہ معیشت پر یقین رکھتے ہیں۔ ایل ڈی ایف ، ڈی ایم کے اور ٹی ایم سی بالترتیب کیرالا ، ٹاملناڈو اور مغربی بنگال میں اپنی اپنی حکومتیں چلارہی ہیں اور بی جے پی انہیں چیلنج کردی ہے اور یہ نظرثانی طور پر دائیں بازو کی جماعتیں ہے ۔ راقم الحروف آر ایس ایس کو بی جے پی سے بھی زیادہ دائیں بازو سمجھ سکتا ہے اور سمجھتا بھی ہوں۔ حالانکہ آر ایس ایس خود کو سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک ثقافتی تنظیم مانتی ہے ۔ ہاں ایک بات ضرور ہے کہ آر ایس ایس یہ تسلیم کرتی ہے کہ اس کے سرفہرست قائدین بی جے پی کے اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں اور بی جے پی حکومتوں (مرکز و ریاستی حکومتوں) کے ایسے بے شمار وزراء ہیں جو ماضی میں راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے پرچارک رہے اور اب بھی وہ سیوم سیوک ہیں۔ جہاں تک ہندوستان کے عام شہری کا سوال ہے ، ہمارے ملک کا عام شہری آر ایس ایس اور بی جے پی کو ماں اور بیٹا جیسا تصور کرتا ہے یعنی آر ایس ایسماں اور بی جے پی اس کا بغل بچہ ہے ۔ بی جے پی کی پالیسیاں اس کے نظر یات اصولو قواعد اور قوانین ہندو برتری ہندو توا ویدک عقائد ، روایات آریائی تہذیب یا ثقافت مرکزیت ، عاملہ کی بالادستی واحد مشترکہ زبان (ہندی)، سبزی خوری ، ایک ملک ایک حکومت اور کوریائی طرز کے بڑے صنعتی گھرانوں جیسے تصورات و نظریات پر مبنی ہے ۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی نے 2014 تک موجود اتفاق رائے سے واضح اعتراف کیا ہے ۔ بہرحال مذکورہ ریاستوں بالخصوص تین ریاستوں میں ہونے والی انتخابی جنگ بائیں مرکز اور دائیں مرکز سیاسی محاذوں یا اتحادوں کے درمیان ہوگی۔ اب سب سے پہلے بات کرتے ہیں کیرالا کی۔ کیرالا میں گزشتہ 50 برسوں کے دوران کانگریس کی زیر قیادت یو ڈی ایف اور سی پی آئی ایم کی زیر قیادت ایل ڈی ایف کا غلبہ رہا ہے یعنی یہ دونوں اتحاد وقفہ وقفہ سے اقتدار میں رہے۔ کیرالا کی جو چھوٹی جماعتیں ہیں ان دو اتحادوں میں سے کسی ایک اتحاد کے ساتھ جڑتی رہی ہیں ۔ کیرالا کی ایک اچھی بات یہ ہے کہ وہاں کے رائے دہندوں نے ہمیشہ دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف کو باری باری اقتدار حوالے کیا ۔ یعنی ان رائے دہندوں نے کبھی یو ڈی ایف کو ایل ڈی ایف کا متبادل بنایا تو کبھی ایل ڈی ایف کو یو ڈی ایف کا متبادل بناکر عوام اور ریاست کی ترقی کو یقینی بنایا لیکن 2021 میں ایل ڈی ایف کو دوبارہ اقتدار حوالے کرتے ہوئے ریاست کی عوام نے اس روایت کو ایک طرح سے توڑ دیا ۔ ایل ڈی ایف نے 2016 کے اسمبلی انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کی تھی ۔ آپ کو بتادیں کہ دونوں محاذ مضبوط ہیں اور دونوں اتحادوں نے اس مرتبہ بھی اپنے انتخابی حکمت عملیوں کو بہتر انداز میں قطعیت دی ہیں۔ کیرالا میں فی الوقت یہ رائے پائی جاتی ہے کہ ایل ڈی ایف نے ضعیف العمر مسٹر پی وجین (پنا رائے وجین) کی قیادت میں حکمرانی کی دو میعاد پورے کئے ہیں اور اب تبدیلی کا وقت آگیا ہے ۔ اس ضمن میں 2018 کے سیلاب اور 2024 کے ویاناڈ زمینی تودے کھسکنے سے بہتر انداز میں نمٹنے میں ایل ڈی ایف کی ناکامی نے رائے دہندوں میں اس کی شبیہہ اور مقبولیت بری طرح متاثر کر کے رکھ دی ہے ۔ دوسری طرف ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی کیرالا کے عوام کے ڈی این اے کو نہیں سمجھ سکی ۔ اب ریاست میں یہ اندازے لگائے جارہے کہ آخر بی جے پی کتنی نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی اور اس بات پر شرط لگائی جارہی ہے کہ اسے ایک ہندسی یا Single digit نشست حاصل ہو گی۔
ٹاملناڈو : جنوبی ہند کی اس ریاست میں 2021 اور 2024 کا ڈی ایم کے زیر قیادت فرنٹ بہت مضبوط اور متحد ہے اور اس اتحاد کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ چیف منسٹر مسٹر ایم کے اسٹالن نے چھوٹی سیاسی جماعتوں کو قائل کیا ہے کہ وہ ڈی ایم کے کے انتخابی نشان پر مقابلہ کریں ۔ دراصل اس حکمت عملی کو انہوں نے اس لئے اپنایا تاکہ سیکولر ووٹ تقسیم نہ ہونے پائیں ۔ ان کے خیال میں اس حکمت عملی کے ذریعہ ووٹوں کی تقسیم روکی جاسکے گی ۔ واضح رہے کہ 2021 کے اسمبلی انتخابات اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے AIADMK کی زیر قیادت محاذ کے ووٹ شیئر میں خطر ناک حد تک کمی آئی ہے لیکن اسے AIADMK سے علحدہ شدہ گروپ AMMK کی تائید وہ حما یت حاصل ہوئی ہے ۔ حیرت و دلچسپی کی بات یہ ہے کہ AMMK لیڈر نے ایک ماہ قبل اس بات کی قسم کھائی تھی ، عہد کیا تھا کہ وہ کبھی بھی مسٹر ای پلانی سوامی کو AIADMK کا قائد یا اس اتحاد کے عہدہ چیف منسٹری کا چہرہ نہیں مانیں گے ۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر بی جے پی نے AIADMK کو کیا پیشکش کی ہے؟ یقیناً مرکزی حکومت کا اقتدار (طاقت) وسائل ، الیکشن کمیشن آف انڈیا کی تائید (الیکشن کمیشن کی جانب سے مدد) اور بی جے پی قومی قائدین کے تخریبی بیانات ، ایسے عوامل ہیں جن کی بنیاد پر AIADMK میں کامیابی کی امید پیدا کی جارہی ہیں۔ اسے کامیاب ہونے کا یقین دلارہی ہے تاہم 2021 اور 2024 میں ان عوامل نے کچھ کام نہیں کیا اور اب 2026 میں بھی ان سے بی جے پی اور AIADMK کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ 234 اسمبلی حلقوں میں سے بی جے پی 27 حلقوں سے مقابلہ کر رہی ہے اور ریاست بھر کے سیاسی حلقوں میں یہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ آخر بی جے پی کے 27 امیدواروں میں سے کتنے امیدوار کامیاب ہوں گے اور قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ بی جے پی کو اس مرتبہ 0-10 حلقوں میں کامیابی مل سکتی ہے ۔ انتخابی مبصرین اور بزرگ صحافیوں نے جو تجزیہ کیا ہے ، اس کے مطابق ڈی ایم کے میر قیادت اتحاد اقتدار برقرار رکھے گا۔
مغربی بنگال: سیاسی لحاظ سے انتہائی اہمیت کی حامل اس ریاست میں ٹی ایم سی اور چیلنجر بی جے پی کے درمیان راست مقابلہ ہے۔ماضی میں اقتدار میں رہی جماعتوں کانگریس اور سی پی آئی ایم کو امید ہے کہ وہ بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناکر کامیابی حاصل کرسکتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہوگا۔ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کا مقابلہ مودی۔امیت شاہ سے ہے