اپوزیشن نے جے پی سی کی رپورٹ کو غیر آئینی قرار دیا : رجیجو

   

نئی دہلی: حکومت نے وقف ترمیمی بل پر قائم مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کی رپورٹ کو اپوزیشن کے غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دینے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہیں لگتا ہے کہ رپورٹ میں ان کا کوئی نقطہ نظر نہیں ہے تو وہ کمیٹی کے چیئرمین سے اپیل کر سکتی ہے ۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ جے پی سی کی رپورٹ راجیہ سبھا میں پیش کی گئی ہے اور لوک سبھا میں بھی پیش کی جائے گی۔ جے پی سی نے چھ ماہ میں بہت اچھا کام کیا ہے ۔ رپورٹ کے ساتھ منسلک ضمیمہ میں اراکین کی تجاویز، آراء، تبصرے وغیرہ شامل ہیں۔ مسٹر رجیجو نے کہا کہ قواعد کے مطابق کمیٹی کے چیئرمین کو کسی بھی تبصرے کو ہٹانے کا حق ہے جو چیئرمین یا کمیٹی کے وجود پر سوالیہ نشان لگاتا ہے ۔ اگر متعلقہ رکن کو لگتا ہے کہ اس کا نکتہ نہیں ہٹایا جانا چاہیے تو وہ اسپیکر سے اپیل کر سکتا ہے ۔ چیئرمین اس پر نظر ثانی کر سکتے ہیں۔ لیکن اس وجہ سے جے پی سی کی رپورٹ کو غیر قانونی اور غیر آئینی کہنا درست نہیں ہے ۔ جے پی سی کا تعلق حکومت سے نہیں ہے ۔ اس میں تمام پارٹیوں کے ممبران ہیں۔