تلنگانہ کی ترقی کانگریس کی مرہون منت، کے ٹی آر کا اسکول بھی کانگریس کا قائم کردہ
حیدرآباد۔/15 مارچ، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے کہا کہ جمہوریت میں آج کا دن یوم سیاہ کے طور پر یاد کیا جائے گا جب حکومت کی جانب سے اپوزیشن کی آواز کو کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ دہلی اور حیدرآباد میں کانگریس قائدین کو احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں گرفتار کیا گیا۔ جمہوریت میں اپوزیشن کی آواز کو کچلنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وباء کے دوران دنیا بھر میں معیشت کو نقصان پہنچا لیکن اڈانی کے اثاثہ جات میں 819 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2014 کے بعد اڈانی کے اثاثہ جات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ راہول گاندھی نے ابتداء ہی سے اڈانی اور نریندر مودی کی ملی بھگت کو بے نقاب کیا تھا۔ اڈانی کمپنیوں کی بے قاعدگیوں پر اپوزیشن کو ایوان میں اظہار خیال کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ اڈانی کمپنیوں کے نقصانات سے ایس بی آئی اور ایل آئی سی کا استحکام متاثر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ سے شکایت کرنے کیلئے جب کانگریس قائدین پہنچے تو انہیں گرفتار کرلیا گیا جو جمہوریت میں یوم سیاہ کی طرح ہے۔ انہوں نے کہا کہ اڈانی کو بچانے کیلئے نریندر مودی نے ایل آئی سی اور ایس بی آئی سے بھاری رقم کی سرمایہ کاری اڈانی کی کمپنیوں میں کی ہے۔ ریونت ریڈی نے راج بھون میں گورنر کو یادداشت پیش کرنے کیلئے جانے والے کانگریس قائدین کی گرفتاری کی مذمت کی اور کہا کہ سی ایل پی لیڈر کو گورنر سے ملاقات سے روکنا شرمناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی یا پھر انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے ذریعہ اڈانی معاملات کی تحقیقات کرائی جائیں۔ ریونت ریڈی نے ریاست کی ترقی کے بارے میں کے ٹی آر کے دعوؤں کو مسترد کردیا اور کہا کہ تلنگانہ میں جو کچھ بھی ترقی ہوئی ہے کانگریس کی مرہون منت ہے۔ کے سی آر اور کے ٹی آر نے جن اسکولوں میں تعلیم حاصل کی تھی انہیں بھی کانگریس نے قائم کئے۔ کانگریس کی جانب سے تلنگانہ کی تشکیل کے نتیجہ میں کے سی آر اور کے ٹی آر کو وزارت حاصل ہوئی ہے۔ر