اڈانی معاملہ میں بی جے پی کو بی آر ایس کی کھلی تائید : نظام الدین

   

راہول گاندھی کے احتجاج سے توجہ ہٹانے کی کوشش، ریونت ریڈی حکومت پر بے بنیاد الزام تراشی
حیدرآباد۔/10 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان سید نظام الدین نے الزام عائد کیا کہ مودی اور اڈانی کے خلاف کانگریس پارٹی کی جدوجہد کو کمزور کرنے کیلئے بی آر ایس راست طور پر بی جے پی کی مدد کررہی ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سید نظام الدین نے بی آر ایس قائدین پر الزام عائد کیا کہ راہول گاندھی کے پارلیمنٹ میں مودی اور اڈانی کے خلاف احتجاج سے توجہ ہٹانے کیلئے تلنگانہ اسمبلی کے روبرو اڈانی کی تصویر کے ساتھ احتجاج منظم کیا ہے۔ راہول گاندھی نے مودی اور اڈانی کی مفاہمت کو بے نقاب کیا اور بی آر ایس قائدین اڈانی کے مسئلہ پر کانگریس حکومت کو نشانہ بنارہے ہیں، ان میں ہمت نہیں ہے کہ مودی اور اڈانی پر تنقید کریں۔ نظام الدین نے کہاکہ دونوں پارٹیوں میں مفاہمت واضح ہوچکی ہے اور بی آر ایس نے بی جے پی کے حق میں موقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق بی آر ایس حکومت نے اڈانی کیلئے کئی پراجکٹس کی منظوری دی تھی اور شفافیت کے بغیر یہ منظوری دی گئی۔ کے سی آر حکومت حقیقی معنوں میں اڈانی کی دوست تھی لہذا کانگریس حکومت کے خلاف نعرہ بازی سے گریز کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر اور حکومت کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی کا مقصد حکومت کے کارناموں سے عوام کی توجہ ہٹانا ہے۔ نظام الدین نے کہا کہ موسی ریور فرنٹ پراجکٹ کی مخالفت کرتے ہوئے حیدرآباد کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کی جارہی ہے۔ انہوں نے مجسمہ تلگوتلی کو متنازعہ بنانے کی کوششوں کی مذمت کی اور کہا کہ دس سالہ دور حکمرانی میں بی آر ایس نے سرکاری طور پر مجسمہ تیار نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ریونت ریڈی حکومت نے ایک سال کی مدت میں نہ صرف انتخابی وعدہ کی تکمیل کی بلکہ طبقاتی سروے کے ذریعہ ملک میں مثال قائم کی۔1