نئی دہلی : اڈانی گروپ اور مرکز کی مودی حکومت کے درمیان گٹھ جوڑ کو لیکر آج کانگریس نے ایک نیا انکشاف کیا ہے۔ ہزاروں کروڑ روپے کی ہیرا پھیری کا الزام عائد کرتے ہوئے کانگریس نے کہا ہیکہ تازہ انکشافات سے اشارے ملتے ہیں کہ دو سال میں 12 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم ملک سے باہر نکالی گئی ہوگی۔پارٹی نے اڈانی معاملے سے جڑے ان الزامات کو لے کر اسے جدید ہندوستان کا سب سے بڑا گھوٹالہ قرار دیا ہے۔کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے جمعہ کے روز اڈانی معاملے پر ایک تازہ بیان دیا جس میں بڑے گھوٹالے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی نے اڈانی گروپ کو ملکیت یکجا کرنے میں مدد کی ہے۔ یہ میٹافوریکل لوٹ نہیں بلکہ کروڑوں ہندوستانیوں کی جیب سے ’چوری‘ ہے۔ رمیش نے برسراقتدار بی جے پی حکومت پر اڈانی گروپ کو ملکیت حاصل کرنے میں مدد کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔
انھوں نے کہا کہ بی جے پی کے پاس انتخابی بانڈ سے جمع فنڈ بھرا ہوا ہے۔ بی جے پی کے پاس اتنے پیسے ہیں جس سے اسے اپنی خواہش کے مطابق اراکین اسمبلی خریدنے اور اپوزیشن پارٹیوں کو توڑنے کا موقع ملتا ہے۔کانگریس جنرل سکریٹری کا کہنا ہے کہ یہ جدید ہندوستان کا سب سے بڑا گھوٹالہ ہے۔ اس میں لالچ اور بے دردی کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے لوگوں کے تئیں بے حسی صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ اس بھروسے پر مبنی ہے کہ ایسا کوئی گھوٹالہ نہیں ہے جسے ’ممنوع‘ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ایسا کوئی ایشو نہیں ہے جسے مینیج نہیں کیا جا سکتا، یا جس سے دھیان نہ بھٹکایا جا سکے۔جئے رام رمیش نے وزیر اعظم مودی کا نام لیے بغیر ان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔