اڈانی کی گرفتاری اور برسرخدمت جج سے تحقیقات کا مطالبہ

   

مرکزی بجٹ سے ملک غریب اور امیر میں تقسیم، سی پی آئی سکریٹری سامبا سیوا راؤ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/7فروری، ( سیاست نیوز) سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری کے سامبا سیوا راؤ نے مرکزی بجٹ کی تیاری کے طریقہ کار میں تبدیلی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ملک غریب اور دولتمند افراد کے درمیان تقسیم ہوچکا ہے۔ اگر بجٹ کی تیاری کے طریقہ کار کو تبدیل نہیں کیا گیا تو آئندہ کئی برسوں تک عوام کے درمیان امتیاز برقرار رہے گا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سامبا سیوا راؤ نے کہا کہ مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے نتیجہ میں امیر اور غریب کے درمیان خلیج میں اضافہ ہوچکا ہے۔ ماہر معاشیات ڈی پا پا راؤ کے ساتھ میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے سامبا سیوا راؤ نے کہا کہ 1920-30 تک ایک فیصد عوام کے ہاتھ میں ملک کے 20 فیصد اثاثہ جات تھے۔ 1999 سے عالمیانے کے عمل سے ایک فیصد افراد کے ہاتھ میں 40 فیصد اثاثہ جات ہوگئے جبکہ 10 فیصد افراد کے ہاتھ میں 80 فیصد اثاثہ جات ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک معاشی بحران کے بدترین دور سے گذررہا ہے۔ گوتم اڈانی کے اداروں کے زوال پر تبصرہ کرتے ہوئے سامبا سیوا راؤ نے کہا کہ اڈانی نے اسٹاک مارکٹ کے ذریعہ آمدنی میں اضافہ کیا ہے۔ حالیہ بحران کے بعد اڈانی کی کمپنیوں کو بھاری نقصان ہوا ہے جس کے اثرات ملک کی معیشت پر پڑیں گے۔ اسٹاک مارکٹ میں تازہ ترین تبدیلیوں سے عوام بخوبی واقف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلاحی اسکیمات کے فوائد غریبوں تک پہنچانے کیلئے ضروری ہے کہ بجٹ کی تیاری کے طریقہ کار میں تبدیلی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کا بجٹ حقائق سے بعید اور بے سمت ہے۔سی پی آئی سکریٹری نے سرکاری اداروں کو نقصان سے دوچار کرنے کے ذمہ دار اڈانی کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی بحران کے نتیجہ میں ایل آئی سی اور ایس بی آئی جیسے اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انہوں نے اڈانی معاملات کی جانچ کیلئے برسرخدمت جج کے تقرر کا مطالبہ کیا اور کہا کہ صورتحال کو بہتر ظاہر کرتے ہوئے مودی حکومت اڈانی کو بچانے کی کوشش کررہی ہے۔ر