اگسٹ میں رہائشی جائیدادوں کی خرید و فروخت میں تیزی

   


حیدرآباد ‘ میڑچل ۔ ملکاجگری ‘ رنگا ریڈی و سنگاریڈی میں 2,658 کروڑ مالیتی جائیدادوں کے رجسٹریشن

حیدرآباد 10ستمبر ( سیاست نیوز ) ماہ اگسٹ کے دوران حیدرآباد میں جائیدادوں کی خرید و فروخت اور رجسٹریشن کے عمل میں تیزی دیکھی گئی ۔ ماہ اگسٹ کے دوران جملہ 5,181 رہائشی یونٹس کا رجسٹریشن کیا گیا جبکہ ان جائیدادوں کی جملہ مالیت 2,658 کروڑ روپئے بتائی گئی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ماہانہ اساس پر کئے جانے والے جائزہ کے مطابق ماہ اگسٹ میں رجسٹریشن کے تناسب میں 20 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ مذہبی اعتبار سے بہتر وقت نہ رہنے پر گذشتہ مہینوں میں جائیدادوں کے رجسٹریشن میں گراوٹ اور کمی درج کی گئی تھی ۔ کہا گیا ہے کہ حیدرآباد ریسیڈنشیل مارکٹ در اصل حیدرآباد ‘ میڑچل ۔ ملکاجگری ‘ رنگا ریڈی اور سنگاریڈی اضلاع پر مشتمل ہے ۔ اس علاقہ میںجاریہ سال کے آغاز کے بعد سے ہی رہائشی جائیدادوں کی طلبا ور فروخؒ میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا تھا ۔ اب تک جملہ 46,076 رہاشئی یونٹس کی فروخت ہوئی ہے اور ان کا رجسٹریشن ہوا ہے جن کی جملہ مالیت 22,680 کروڑ روپئے بتائی گئی ہے ۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 25 لاکھ تا 50 لاکھ روپئے مالیتی یونٹس جملہ فروخت کا 55 فیصد رہیں۔ یہ تناسب اگسٹ 2021 کے مقابلہ میں 37 فیصد زیادہ رہا ۔ تاہم 25 لاکھ روپئے سے کم مالیتی جائیدادوں کی مانگ میں کمی آئی ہے ۔ یہ جملہ خرید و فروخت کا محض 16 فیصد رہا جبکہ ایک سال قبل یہ تناسب 35 فیصد رہا تھا ۔ بڑے مکانات کی طلب میں اضافہ کا رجحان بھی برقرار ہے ۔ رپورٹ کے مطابق 50 لاکھ روپئے سے زیادہ مالیت کی جائیدادوں کی فروخت بڑھ کر 29 فیصد ہوگئی جبکہ یہ گذشتہ سال 28 فیصد درج کی گئی تھی ۔ جہاں تک اسکوائر فیٹ کا سوال ہے تو 1000 مربع فیٹ سے زیادہ کی جائیدادوں کی فروخت تناسب کے اعتبار سے 83 فیصد رہی ہے ۔ 1000 سے 2000 اسکوائر فیٹ والی رہائشی یونٹس کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وباء کے دوران عوام نے اپنے رہائشی مکان کو اپ گریڈ کرنے اور زیادہ کشادہ رہائش کا جو رجحان شروع کیا تھا وہ برقرار ہے اور اس میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ضلع واری ڈاٹا کے مطابق میڑچل ۔ ملکاجگری میں جملہ جائیدادوں کے رجسٹریشن میں 44 فیصد رجسٹر ہوئے جبکہ رنگا ریڈی میں 38 فیصد ہوئے ۔ حیدرآباد میں 14 فیصد تناسب رہا ۔ رجسٹریشن قیمتوں کے مطابق جائیدادوں کی ملکیت میں 9 فیصد کا اضافہ ہوا ۔