تہران ۔ 19 ستمبر (ایجنسیز) ایرانی وزارتِ داخلہ کے ترجمان علی زینی وند نے کہا ہے کہ مسائل کے حل اور اسلام آباد معاہدے کی جانب واپسی کے لیے کوششیں اور بین الاقوامی سفارتی ثالثی جاری ہے۔ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق پریس بریفنگ کے دوران علی زینی وند نے کہا ہے کہ ایران کا مطالبہ ہے کہ دوسرا فریق اس معاہدہ کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے۔ ایرانی عہدیدار نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایسا معاہدہ ہے جس کی منظوری سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل نے دی ہے اور سپریم لیڈر نے اس کی توثیق کی ہے، لہٰذا اسے نظام کا باضابطہ فیصلہ تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فعال سفارت کاری جاری ہے، جس میں صدر کی ہندوستان اور کرغستان میں شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس کے اجلاسوں میں شرکت کے ساتھ ساتھ وسیع پیمانے پر مشاورت بھی شامل ہے۔ ایران میں کئی دہائیوں سے جاری مغربی پابندیوں کے بعد مہنگائی کی شرح ریکارڈ سطح پر پہنچنے کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتیں عوام کے لیے باعثِ تشویش ہیں اور تمام حکام اس مسئلے کے حل کے لیے کام کر رہے ہیں۔