ایرانی نیوکلیئرپروگرام کے خلاف امریکہ۔ اسرائیل متحد

   

تل ابیب : ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے کہا ہیکہ اس ہفتہ ایران کے بارے میں امریکہ اور اسرائیل کی بات چیت مثبت رہی ہے۔ اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ دونوں ممالک اس معاملے کو پہلے سے کہیں زیادہ قریب کے نقطہ نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ اسرائیلی اہلکار نے مزید کہا کہ ایران کے بارے میں بات چیت واقعی اچھی رہی۔ بات چیت بہت زیادہ کھلے پن پر تھی۔اس ملاقات سے واقف ایک دوسرے اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ بات چیت اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ اسرائیل اور امریکہ ایران کے خلاف پہلے سے کہیں زیادہ متحد ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدہ ایجنڈے میں شامل نہیں ہے اور ایرانی یوکرین میں روس کی مدد کر رہے ہیں۔اہلکار نے کہا کہ ہم ایک نئی دنیا اور ایک مختلف ماحول میں ہیں اور ہم اس معاملے کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بات چیت سنجیدہ تھی یہ ایران کے بارے میں حقیقی بات چیت تھی نہ کہ صرف مشاورتی ملاقات۔انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے بہت کھلے پن کا مظاہرہ کیا گیا، ہاں اسرائیلی حکومت کو مایوسی ہوئی کہ امریکہ نے تین ممالک فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے گروپ کی تجویز کی حمایت نہیں کی۔اس ہفتے ان تین ممالک نے عالمی توانائی ایجنسی ’ آئی اے ای اے‘ بورڈ کے اجلاس کے دوران ایران کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی تھی مگر امریکہ نے اس کی حمایت نہیں کی۔وائٹ ہاؤس میں ہونے والی یہ بات چیت اسرائیل کی نئی دائیں بازو کی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنی نوعیت کی پہلی بات ہے۔ یہ ملاقات ایران کے جوہری پروگرام میں بے مثال پیشرفت کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کے دوران ہوئی۔