ایران اور یورپی ممالک کی نیوکلیئر پروگرام پر بات چیت

   

تہران: ایران اور تین یورپی ممالک فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے تہران پر عائد پابندیاں ہٹانے اور اس کے نیوکلیئر پروگرام پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ایران کے ایک سینئر سفارت کار نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ روز یورپی یونین کے ساتھ نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے بات چیت تعمیری رہی۔ جنیوا میں ہونے والی اس ملاقات میں فرانس، برطانیہ اور جرمنی اور ایران کے مابین اس معاملے پر بات چیت ہوئی۔ ای تھری نامی گروپ میں شامل ان تینوں یورپی ممالک نے تہران کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں دو ماہ سے بھی کم عرصے میں بات چیت کے دوسرے دور کیلئے جنوری میں ملاقات کی تھی۔ پچھلی بات چیت گزشتہ سال کے آخر میں نیویارک میں ہوئی تھی۔ ایران کو اس وقت اپنے نیوکلیئر پروگرام کی وجہ سے پابندیوں کا سامنا ہے۔تہران کے نائب وزیر خارجہ برائے بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے ایکس پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ”میں نے ای تھری کے ساتھ ایک تعمیری ملاقات کا انعقاد کیا۔‘‘غریب آبادی نے کہا کہ فریقین نے “نیوکلیئر پابندیوں کے خاتمے کے معاملات پر خیالات کا تبادلہ کیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔یہ ملاقات ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تخفیف اسلحہ اور انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں شرکت کے موقع پر ہوئی۔گزشتہ ماہ ڈونالڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد سے یورپی ممالک نے ایران کے ساتھ مذاکرات اور تہران کے نیوکلیئر پروگرام پر نئے سرے سے توجہ مرکوز کی ہے۔امریکی صدر کے طور پر اپنی پہلی مدت کے دوران، ٹرمپ نے تہران پر ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل کیا تھا۔ ٹرمپ نے امریکہ کو تہران کے ساتھ ایک تاریخی نیوکلیئر معاہدے سے الگ کیا اور تہران پر لاگو سابقہ پابندیوں کو بھی بحال کیا تھا۔