ایران سے منسلک جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر امریکہ کے فضائی حملے

   

طرابلس : امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے شام کے علاقے میں ایران کے پاسداران انقلاب سے وابستہ گروپوں کے زیر استعمال تنصیبات پر فضائی حملے کیے ہیں۔خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق منگل کو یہ حملے ایسے وقت میں کیے جب امریکہ کو ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے کی بحالی کے لیے یورپی یونین نے تجویز کردہ ڈرافٹ جواب دینے کے لیے بھیجا ہے۔یورپی یونین کے تجویز کردہ معاہدے کے مسودے کا مقصد ایران کے ساتھ 2015 کے نیوکلیئر معاہدے کو بحال کرنا ہے جسے سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ترک کر دیا تھا۔فوج کی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا کہ اس طرح کے حملوں کا مقصد امریکی افواج کو ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کے حملوں سے بچانا ہے۔بیان میں 15 اگست کو ایسے ہی ایک واقعے کا حوالہ دیا گیا جس میں اتحادی اور امریکی حمایت یافتہ شامی اپوزیشن کے جنگجوؤں کے زیر انتظام ایک کمپاؤنڈ پر ڈرون حملہ کیا گیا تھا تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔فوجی ترجمان کرنل جو بکینو نے کہا کہ صدر نے ان حملوں کی ہدایت جاری کی تھی۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے ان حملوں کو ’متناسب، جان بوجھ کر ایسی کارروائی کی جس کا مقصد بڑھتے خطرے کو محدود اور جانی نقصان کے خطرے کو کم کرنا‘ قرار دیا۔