ایران صرف غصہ دلاتا ہے ، جھوٹ بولتا ہے اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے : ٹرمپ

   

واشنگٹن، یکم اگست (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جھوٹ بولتا اور حقائق توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے ، اس پر اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے ۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ریاست میری لینڈ میں واقع کیمپ ڈیوڈ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران صرف غصہ دلاتا ہے ، جھوٹ بولتا ہے اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے ، جس کی وجہ سے اس پر دنیا کا اعتماد مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے ۔ صدر ٹرمپ نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایران پر بہت سخت حملے جاری رکھیں گے ، اور ایک وقت ایسا آئے گا جب وہ خود کہہ اٹھیں گے کہ وہ اب مزید اس صورتِ حال کو برداشت نہیں کر سکتے ۔ اس موقع پر امریکی وزیرِ خزانہ نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم دنیا بھر میں ایران کے اثاثے تلاش کر رہے ہیں، اور برآمد کیے جانے والے ان اثاثوں کی رقم ایرانی عوام کے ساتھ ان امریکی شہریوں کیلئے استعمال کی جائے گی جنہیں ایران نے ماضی میں نقصان پہنچایا ہے ۔ دوسری جانب امریکی اخباروال اسٹریٹ جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئے حملوں کی ہدایات جاری کر دی ہیں، حملے اسی ہفتے کے آخر میں شروع ہوسکتے ہیں۔ امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس نیوز نے کہا امریکہ اور اسرائیل مل کر ایرانی توانائی مراکز پر حملوں کی تیاری کر رہے ہیں، ممکنہ حملے میں ایران کے بجلی گھروں اور آئل ریفائنریوں سمیت توانائی سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے ، یہ کارروائی ہفتے کے آخر میں کی جاسکتی ہے ۔

’ہم صرف جیتنا چاہتے ہیں ایران پر سخت حملے جاری رکھیں گے‘
حالانکہ امریکہ ’نرمی‘ سے کام لے رہا ہے، ایران کے مضبوط موقف کی خبریں امریکی صدر ٹرمپ نے مسترد کردیں

واشنگٹن ۔ یکم ؍ اگست (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران پر بہت سخت حملے جاری رکھے گا، واشنگٹن کا مقصد جنگ میں فتح حاصل کرنا ہے۔ ریاست میری لینڈ میں واقع کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم صرف جیتنا چاہتے ہیں، ہم بہت اچھا کر رہے ہیں، ہم اس قسم کی صورتِ حال میں جہاں تک ممکن ہو نرمی سے کام لینے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ایران کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ بالکل سادہ ہے، ایران کو نیوکلیر ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایران پر انتہائی سخت حملے کریں گے اور ایک وقت ایسا آئے گا جب وہ کہیں گے کہ اب ہم مزید برداشت نہیں کر سکتے۔ امریکی صدر نے ان خبروں کو بھی مسترد کر دیا جن میں ایران کو اب بھی مضبوط پوزیشن میں قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی صورتِحال انتہائی خراب ہے، انہوں نے بے ایمانی سے کام لیا ہے اور ان کے ساتھ معاملات کرنا انتہائی غیر معزز تجربہ رہا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کا موازنہ امریکہ کی ویتنام اور افغانستان میں سابقہ جنگوں سے کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ صرف 5 ماہ سے اس تنازعہ میں شامل ہے اور اس عرصے کے دوران ایران کی عسکری صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ مجھے اب ان پر اعتماد نہیں رہا کیونکہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کے عمل کے درمیان تھے، میں اسٹیو وٹکوف کی کال کا انتظار کر رہا تھا، لیکن اس کے بجائے مجھے پیٹ ہیگستھ کا فون آیا کہ ایران نے اردن میں ہمارے ایک ٹھکانے پر 5 میزائل داغ دیے ہیں۔ ٹرمپ نے بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں میرے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، مشیر جیرڈ کشنر، نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو شامل ہیں، ہمارے بہترین لوگ مذاکرات کر رہے ہیں۔ خیال رہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران امریکہ نے ایران کے مختلف علاقوں میں متعدد حملے کیے ہیں۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی پر ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئیں۔ دوسری جانب تہران نے جواباً خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جن میں اردن میں واقع ایک امریکی ٹھکانہ بھی شامل ہے۔