قومی سمینار سے نجیب جنگ اور ڈاکٹراوصاف سعید کا خطاب
حیدرآباد۔11/اپریل۔ ( راست ) ۔ ایران نے اپنے مقتدر اعلی کا تحفظ کرتے ہوئے، سنگین اور نازگار حالات و مصائب کا سامنا کرتے ہوئے دنیا کی بڑی طاقتوں کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے، دنیا کو ایک نئی راہ دکھائی اور دنیا کی تاریخ کو بدل کر رکھ دیا۔ ان خیالات کا اظہار مختلف مقررین نے 11 اپریل کو حیدرآباد میں منعقدہ ایک قومی سمینار میں کیا۔ جس کا عنوان تھا ’’بین الاقوامی جغرافیائی سیاست کی تشکیل نو میں ایران کا رول‘‘ دہلی کے سابق لفٹیننٹ گورنر و جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے سابق وائس چانسلر جناب نجیب جنگ نے کلیدی خطبہ پیش کیا۔ جوڈیشیل کویسٹ کے زیر اہتمام منعقدہ اس سمینار میں سابق معتمد وزارت خارجہ ہند و سابق سفیر سعودی عرب و یمن ڈاکٹر اوصاف سعید آئی ایف ایس نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ بی بی سی ہندی سرویس کے سابق نامہ نگار و تجزیہ نگار جناب قربان علی اور حجۃ الاسلام آغا مجاہد حسین اعزازی مہمان تھے۔ جناب سید علی طاہر عابدی نے خیر مقدم کیا۔ سید خالد شہباز نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ جناب نجیب جنگ نے کہا کہ’ایران‘ گزشتہ چالیس دن کے دوران ہر ایک دن کربلا کا منظر پیش کر رہا تھا۔ امریکہ اور اسرائیل نے جو بربریت کا مظاہرہ کیا وہ تاریخ انسانی کا بد ترین باب ہے۔ تاہم ایرانی عوام نے قوم پرستی اور اپنے وطن سے بے پناہ محبت اور اس پر جانثار کرنے کی جو مثال پیش کی اسے سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے حالات کو شیعہ سنی اختلافات میں بدلنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ جناب نجیب جنگ نے ایران کی جرائت، ہمت اور مقابلہ کرنے کی سکت کی ستائش کی۔ انہوں نے انسانیت کو بیدار ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر اوصاف سعید نے کہا کہ اسلام آباد میں امن مذاکرات کے امید افزاء نتائج نکلیں گے تاہم انہوں نے کہا کہ گزشتہ چالیس دن سے جنگ کی حالات کی وجہ سے عالمی سطح پر اضطراب کی کیفیت طاری ہے۔ ڈاکٹر اوصاف سعید نے کہا کہ جنگ ایران،اسرائیل امریکہ کے درمیان ہو رہی ہے مگر اس کے اثرات دیگر ممالک پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ہر شعبہ حیات اس سے متاثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے جو 10 نکاتی تجاویز قیام امن کے لئے پیش کی ہے اگر وہ منظور ہو جاتی ہیں تو حالات سازگار ہو جائیں گے۔ ایران کے سامنے یہ مسئلہ مختلف ممالک میں اس کے منجمد اثاثہ ہیں جن کی بحالی وہ مطالبہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں شیعہ، سنی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ قونصل جنرل ایران جناب حامد احمدیہ نے ہندوستانی عوام سے اظہار تشکر کیا کہ ان نازک حالات میں انہوں نے ایران کے ساتھ یگانگت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں اپنی طاقت کا استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہبر معظم علامہ آیت اللہ خامنہ ای نے شہادت قبول کی مگر کبھی وقت کے فرعونوں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ موجودہ روحانی پیشوا ’مجتبیٰ خامنہ ای‘بھی اسی جذبے سے سرشار ہیں۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ باطل طاقتیں رسوا اور شکست سے دو چار ہوں گے۔ جناب قربان علی (دہلی) نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ حالات میں ہندوستان نے اپنے رویے سے اپنے ایک اچھے دوست کا ساتھ نہیں دیا۔ انہوں نے ایرانی عوام اور قیادت کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس سمینار میں شہر کی سرکردہ شخصیات نے شرکت کی۔ مہمانوں کو مومنٹو بھی پیش کئے گئے۔M/b