ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے ٹرمپ کے منصوبے دیوانگی ہے: امریکی سینیٹر

   

واشنگٹن ۔ 30 اکٹوبر (ایجنسیز) امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی نے آنے والے 3 نومبر کو مقررہ ضمنی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ممکنہ منصوبوں سے خبردار کردیا۔ انہوں نے اس منصوبے کو دیوانگی قرار دیا اور اس کی اپنے اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت پر شک کا اظہار کیا ہے۔کرس مرفی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ کانگریس کے کچھ ارکان کو اس فوجی منصوبے کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے۔ اگرچہ میں کسی بھی تفصیلات کا انکشاف نہیں کر سکتا، لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ منصوبہ دیوانگی ہے۔ یہ اہداف حاصل نہیں کرے گا اور کشیدگی کے ایک نئے دور کو جنم دے گا۔ریاست کنیکٹیکٹ کی نمائندگی کرنے والے ڈیموکریٹک سینیٹر کے یہ بیانات امریکی میڈیا کی ان رپورٹس کے بعد سامنے آئے ہیں جن میں وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ بھی شامل ہے جس میں کہا گیا ہیکہ واشنگٹن نے کئی ملکوں کو انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ایک مختصر اور شدید فوجی مہم شروع کرنے کے امکان کیلئے تیار رہنے کی اطلاع دی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل ایرانی صلاحیتوں کو کمزور کرنے اور تہران کو مذاکرات کی طرف واپس لانے کے مقصد سے فوجی کارروائیوں کے ایک نئے دور پر عملدرآمد کے امکان کیلئے تیاری کر رہے ہیں۔ گردش کرنے والی معلومات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی فوج اپنے دستوں کی دوبارہ نقل و حرکت کر رہی ہے اور اضافی لڑاکا طیاروں اور بمبار طیاروں کی تعیناتی کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ اپنے گولہ بارود کے ذخائر کو مضبوط بنا رہی ہے۔ رپورٹس میں ریاست ٹیکساس سے پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم کو منتقل کرنے اور علاقے میں موجود امریکی افواج میں ایک ایئر کرافٹ کیریئر گروپ اور میرینز کے ایک اضافی دستے کی شمولیت کے بارے میں بھی بات کی گئی ہے۔ٹرمپ نے اپنے سابقہ بیانات میں انتخابات کے بعد دوبارہ فوجی حملے شروع کرنے کے امکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران کسی معاہدے پر پہنچنے پر رضامند نہ ہوا تو وہ ایک اور محدود فوجی کارروائی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے پہلے سے جاری سیٹ فائر کو وقت کا ضیاع بھی قرار دیا تھا۔
یہ پیش رفت امریکی اور ایرانی تصادم کے مہینوں بعد سامنے آئی ہے جس نے وقفے وقفے سے فوجی کارروائیاں اور آبنائے ہرمز سے متعلق تناؤ دیکھا جس کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے اور علاقائی کشیدگی کے ایک نئے دور کے چھڑ جانے کے خدشات موجود ہیں۔ مرفی کا ماننا ہے کہ جنگ کو دوبارہ شروع کرنا معلن اہداف حاصل نہیں کرے گا بلکہ یہ ایک وسیع تر کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے جو علاقے میں امریکی مفادات اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کیلئے خطرہ ہے۔انتخابات کے بعد فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے حتمی فیصلے کی تصدیق کرنے والا کوئی بھی سرکاری اعلان وائٹ ہاؤس کی طرف سے اب تک جاری نہیں ہوا ہے\ امریکی انتظامیہ اس بات کی تصدیق جاری رکھے ہوئے ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کیلئے تمام آپشنز کھلے ہیں۔