ایران امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے ذریعہ 2015 کے نیوکلیئر معاہدہ کی بحالی کیلئے بھی کوشاں: رافیل گروسی
نیویارک : نیوکلیئر توانائی کے لیے بین الاقوامی واچ ڈاگ ‘ انٹر نیشنل آٹامک انرجی ایجنسی ‘ کے سربراہ رافیل گروسی نے قرار دیا ہے کہ ایران آج ماضی کے مقابلے میں زیادہ زیادہ سنٹری فیو جز لگا کر یورینیم افزودہ کر رہا ہے۔ اس لیے ایرانی نیوکلیئرپروگرام پہلے کے مقابلے زیادہ بڑا اور متعلقہ مسئلہ بن چکا ہے۔یہ بات’ آئی اے ای اے’ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران اپنے زیر زمین نیوکلیئرتنصیبات نتنز اور فیروز میں زیادہ سینٹری فیوجزلگا رہا ہے اور ان کی مدد سے زیادہ یورینیم افزودہ کر رہا ہے۔اسی طرح وہ امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے ذریعہ 2015 والے نیوکلیئرمعاہدہ کی بحالی کی کوشش بھی کر رہا ہے۔ جبکہ ایران کا ایک مطالبہ یہ بھی رہتا ہے کہ ‘آئی اے ای اے’ اس کی غیر اعلان کردہ نیوکلیئرتنصیبات کے بارے میں تحقیقات بندکردے۔آئی اے ای اے ‘ کے سربراہ نے یہاں امریکہ میں ایک گفتگو کے دوران چیف واچ ڈاگ رافیل گروسی نے یوکرین کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر یوکرین کی نیوکلیئرتوانائی کی تنصیبات کے بارے میں بتانے کے بجائے ایران کے جوہری معاملات پر جواب دینا شروع کر دیا۔ان کا کہنا تھا ‘میں ہر روز اپنے انسپکٹرو ںکی مدد سے دیکھ رہا ہوں کہ ایرانی نیوکلیئرپروگرام کا معاملہ کس طرح پہلے سے زیادہ متعلقہ ( سنگین تر) ہوتا جارہا ہے۔’ انہوں نے تھنک ٹینک ‘ کارنیگی’ میں نیوکلئیر پالیسی کانفرنس کے دوران ان امور پر کسی تفصیل میں جائے بغیر محض اشاراتی حد تک بتایا۔بعد ازاں انہوں نے بتایا وہ ایران میں یورینیم کی افزودگی کا پتہ چلانے کے سلسلے میں کسی دباو میں نہیں آئیں گے کہ وہ کہاں اور کیسے پہنچے۔’چیف انسپکٹرگروسی نے کہا۔ میں نے یہ کئی بار کہا ہے کہ میں کسی بھی تحقیقی ضرورت والی جگہ پر کسی سیاسی دباو کی وجہ سے جا کر تحقیقات نہیں کروں گا۔ آئی اے ای اے کو جو کرنا ہے وہ اپنے انداز میں اور اپنے طور پر کرتے رہنا ہے۔انہوں نے کہا ‘ یہ بات جس طرح میں کھلے عام یہاں کہہ رہا ہوں میں نے بات اسی طرح میں ایرانی حکام کو بھی کئی بار کہی ہے۔ جب ایرانی حکام مجھے کہتے ہیں کہ آپ فلاں جگہ پر جائیں اور فلاں جگہ پر نہ جائیں۔