تہران : اسرائیل کے وزیر خارجہ گیدون سار نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف ‘فوجی حملوں کا متبادل میز پر ہونا چاہیے’۔بلجیم کے دارالحکومت برسلز کے سرکاری دورے پر آئے سار نے ‘پولیٹیکو’ میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں بیانات دیے۔امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران ایران پر حملے کے امکان کے بارے میں پوچھے جانے پر سار نے کہا، ”میرے خیال میں ایران کے جوہری پروگرام کو ہتھیار وں کی تیاری کے مرحلے تک پہنچنے سے پہلے روکنے کے لیے ایک قابل اعتماد فوجی آپشن میز پر ہونا چاہیے۔سار نے دلیل دی کہ اسرائیل کے پاس احتیاط ی تدابیر اختیار کرنے کے لئے زیادہ وقت نہیں بچا ہے، ایران ”چند بموں” کے لئے کافی یورینیم افزودہ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے 23 فروری کو کہا تھا کہ ایران نے اس کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو نقصان پہنچایا ہے، لیکن ان کا حتمی مقصد اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔سن 2018 میں امریکہ کی جانب سے یکطرفہ طور پر جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد سے ایران نے افزودہ یورینیم کے ذخیرے میں اضافہ کیا ہے۔