حیدرآباد ۔ 18 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : فہرست رائے دہندگان پر کی جارہی خصوصی نظر ثانی میں حیدرآباد میں کئی یتیموں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیوں کہ کئی لوگ شناختی دستاویزات اور والدین کی تفصیلات نہ ہونے کے باعث اینومریشن کے عمل کو مکمل نہیں کرپا رہے ہیں ۔ عہدیدار اہل ووٹرس پر زور دے رہے ہیں کہ اینومریشن فارمس داخل کریں جب کہ ان طبقات کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کبھی نہ رہنے والے دستاویزات کی تلاش میں ایک آفس سے دوسرے آفس کے چکر لگانے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ووٹر شناخت کارڈ ہے اور ان کی شناخت کے ثبوت میں ایک شناختی کارڈ ہے لیکن ان کے والدین کے بارے میں کوئی ثبوت فراہم کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے جو اس نظر ثانی میں درکار ہے ۔ آزادانہ یا شیلٹرس میں رہنے والے کئی یتیموں نے کہا کہ انہیں ان کے بائیولوجیکل والدین کے نام معلوم نہیں ہیں جس سے فارمس میں ضروری تفصیلات درج کرنے میں مشکل ہورہی ہے ۔ ٹولی چوکی میں ایک عمر رسیدہ جوڑے کے لیے گھریلو خادمہ کے طور پر کام کرنے والی ایک شہری ، زہرا نے کہا کہ وہ ایک یتیم خانہ میں بڑی ہوئی ہیں اور یہ نہیں جانتی کہ اس کے والدین کون ہیں اور کہا کہ ہر آفس میں والدین کے نام یا پرانے دستاویزات کے لیے پوچھا جاتا ہے ۔ ایک اور یتیم ، لالہ گوڑہ کے سری کانت نے کہا کہ اس کے پاس ایک شناختی کارڈ ہے لیکن اس کا نام فہرست رائے دہندگان میں شامل نہیں کیا جارہا ہے ۔ عہدیدار اس سے بار بار فیملی ریکارڈس لانے کے لیے کہہ رہے ہیں ۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے عہدیداروں نے کہا کہ کسی یتیم کے اداروں میں پرورش پانے کی صورت میں اس یتیم خانہ کا نام والدین کے لیے کالم میں درج کیا جائے گا تاہم اس سلسلہ میں کوئی خاص گائیڈ لائنس نہیں ہیں اور صورتحال بہت متضاد ہے ۔ سماجی کارکن محمد آصف سہیل نے کہا کہ کئی لوگوں نے حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے ارفینجس اور چیریٹی ہومس کو اس عمل کے دوران درپیش ہونے والے چیالنجس کو اٹھایا کیوں کہ ان کے پاس ان کے پیرینٹس یا سرپرستوں کی شناخت یا مربوط کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا ہے ۔۔ A/a/b