اننت گپتا
ملک بھر میں ایس آئی آر کو لے کر کافی بے چینی پائی جاتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ایس آئی آر 2002 میں نام نہ ہونے کی بنیاد پر ایسی اہم شخصیتوں کے نام بھی فہرست رائے دہندگان سے ہدف کردیئے گئے جنہوں نے صحافت اور انسانی حقوق کے میدان میں غیر معمولی خدمات انجام دی ہیں حالانکہ مغربی بنگال میں جہاں مسلسل تین معیادوں تک ممتا بنرجی کی حکومت رہی ، کم از کم 34 لاکھ مرد و خواتین نے اپیل دائر کی ہیں یہ ایسے لوگ ہیں جن کے ایس آئی آر کا ہنوز کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ۔ بہرحال عادل حسین نے جو ماہر بشریات ہیں شہریت کی سیاست کا برسوں مطالعہ کیا اور اس موضوع پر انہوں نے بہت کچھ لکھا لیکن مغربی بنگال میں اسپیشل انٹینسو رویژن (ایس آئی آر) نے 39 سالہ اسکالر کی زندگی کو ان کے ا پنے الفاظ میں لیباریٹری آف سٹیزن شپ بنادیا ہے، یعنی شہریت کی لیباریٹری میں تبدیل کردیا ہے ۔ ہندوستانی پاسپورٹ اور 1950 کا اراضی ریکارڈ رکھنے کے باوجود عادل حسین کا نام مغربی بنگال کے ضلع دنئے پور میں واقع ایک گاؤں کی فہرست رائے دہندگان سے نکال دیا گیا اور وہ بھی یہ کام ریاستی اسمبلی انتخابات سے چند ہفتے قبل کیا گیا ۔ 23 اپریل کو اپنے حلقہ اسمبلی میں رائے دہی کے دن عادل حسین کے والدین اور ان کی بہن پولنگ بوتھ (مرکز رائے دہی) گئے جبکہ انہیں (عادل حسین) کو گھر میں رہنا پڑا۔ عادل حسین اس بارے میں کہتے ہیں ’’اچانک ان چیزوں کا مجھ پر انکشاف ہوا کہ جن چیزوں کا میں نے مطالعہ کیا وہی چیز میرے ساتھ ہورہی ہے ۔ عادل حسین جو ہندوستان کی ایک خانگی یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں ، یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بہت ہی افسوسناک ہے ۔ مجھ میں احساس اجنبیت پایا جاتا ہے اور یہ موروثی شہریت ہے ، دوسرے پولنگ بوتھ جاسکتے ہیں اور حق رائے دہی کا استعمال کرسکتے ہیں لیکن میں نہیں کرسکتا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ مغربی بنگال میں SIR کے تحت 91 لاکھ رائے دہندوں کے ناموں کو فہرست رائے دہندگان سے حذف کیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے اگرچہ اس بات کا انکشاف نہیں کیا کہ کتنے بیرونی افراد ریاست میں مقیم ہیں ۔ اگر کوئی ہے اور اس کی الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے ذریعہ نشاندہی کی ہے اور فہرست سے ناموں کو اس نے نکال دیا ہے کیونکہ نام کے ہجوں میں گڑبڑ ہے یعنی غلطیاں ہیں کم از کم 34 لاکھ رائے دہندے ایسے ہیں جنہوں نے سپریم کورٹ کے قائم کردہ ٹریبونل کے روٹر اپیلیں دائر کر رکھی ہیں ۔ حسین ان میں سے ایک ہے۔ 9 مئی کو بی جے پی جب سے ریاست میں اقتدار پر آئی ۔ نئے انتظامیہ ایسے کئی فیصلہ لئے ہیں جس سے ان لوگوں کو جن کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کئے گئے ہیں اور بہبودی اسکیمات سے استفادہ کیلئے انہیں نااہل قرار دیا گیا ہے ۔ تاریخی طور پر حسین نے خاص طور پر یہ نوٹ لیا کہ یہ عمل یعنی ایس آئی آر صرف ایک Step یا مرحلہ پر ختم نہیں ہوتا بلکہ ایس آئی آر نے حق رائے دہی چھین لیا ہے ۔ یہ تو پہلا قدم تھا، اگلا قدم سماجی بہبودی اسکیمات سے محروم کرنا ہوگا۔ عادل حسین نئی بی جے پی حکومت کے جاری کردہ متنازعہ احکامات میں سے ایک کو قانونی طور پر چیلنج کرنے تیاری کر رہے ہیں ۔ نئی حکومت نے 14 مئی کو ایک حکمنامہ منظور کیا جس کے ذریعہ اس نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ تمام 1.69 کروڑ کا سٹ سرٹیفکٹس کی تصدیق کریں گے جو ٹی ایم سی کے 15 سالہ دور حکومت میں جاری کئے گئے اس آرڈر کی کاپی کا مشاہدہ اسکرال نے بھی کیا جس میں کہا گیا کہ حذف شدہ ووٹروں کے ذات پات کے سرٹیفکٹس کا جائزہ لیا جائے گا ، ان کی تنقیح کی جائے گی اور یہ سرٹیفکٹس منسوخ بھی کئے جاسکتے ہیں لیکن عادل حسین کا استدلال ہے کہ ایسا کوئی بھی اقدام غیر دستوری ہوگا ۔ ان کا کہنا ہے کہ SIR دراصل فہرست رائے دہندگان کی تیاری کیلئے ہے۔ ا سے سماجی بہبود کے فوائد سے جوڑنا دراصل شہریت کے نئے زمرہ کی تخلیق ہے۔ عادل حسین کہتے ہیں کہ وہ خود OBC سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ ایک خانگی یونیورسٹی میں خدمات انجام دیتے ہیں ۔ عادل حسین کے مطابق انہوں نے دنیا بھر کا سفر کیا ہے اور آکسفورڈ جیسی باوقار یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں اور انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن ان کے ساتھ ایسا ہوگا۔ انگریزی کے مشہور و معروف اخبار دی ٹیلیگراف کے سابق ایڈیٹر آر راج گوپال کا نام فہرست رائے دہندگان میں نہ ہونے کے بہانے حق رائے دہی اور پاسپورٹ کے حقوق سے محروم کردیا گیا۔ ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا نے اس کی مذمت کی ہے ۔ مسٹر راج گوپال کا کہنا ہے کہ کولکتہ کے حلقہ اسمبلی Bally gange کی فہرست رائے دہندگان سے ان کا نام حذف کردیا گیا اور بہانہ یہ بنایا گیا کہ 2002 کی فہرست میں ان کے والد سابق پروفیسر کا نام موجود نہیں ہے ۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے والد ایک گاندھیائی رہنما تھے ۔ گاندھی سمارک کیرالا کے سابق سکریٹری تھے۔ 2016 میں ان کا دیہانت ہوا ۔ ثبوت کے طور پر SSC سرٹیفکٹ تک دیا لیکن نام شامل نہیں کیا گیا ۔ حد تو یہ ہے کہ پاسپورٹ کی تجدید سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا گیا کہ فہرست رائے دہندگان میں ان کا نام نہیں ہے۔