آمدنی کی حد سب سے بڑی رکاوٹ، ذہین طلبہ کو موقع نہیں، دیگر طبقات کے کوچنگ مراکز کی تقلید ضروری
حیدرآباد۔/7ڈسمبر، ( سیاست نیوز) سیول سرویسیز میں مسلم اقلیت کی نمائندگی میں اضافہ کیلئے گذشتہ کئی برسوں سے مختلف سطح پر مہم چلائی جارہی ہے۔ کئی خانگی اداروں نے اقلیتی طلبہ کیلئے سیول سرویس کوچنگ کا اہتمام کیا ہے اور کوچنگ کے نتیجہ میں نہ صرف تلنگانہ بلکہ دیگر ریاستوں میں اقلیتی امیدوار سیول سرویس امتحانات میں نمایاں مظاہرہ کرچکے ہیں۔ حکومت کی سطح پر اقلیتی امیدواروں کو سیول سرویسیز کوچنگ کا 2017 میں فیصلہ کیا گیا لیکن محکمہ اقلیتی بہبود میں وسائل و ذرائع کی کمی کے باعث امیدواروں کو نامور اداروں میں کوچنگ کیلئے اسپانسر کرنے کا آغاز ہوا۔ ہر سال اسکریننگ ٹسٹ کے ذریعہ 100 امیدواروں کا انتخاب کیا جاتا ہے لیکن گذشتہ پانچ برسوں میں میناریٹیز اسٹڈی سرکل کے ذریعہ ایک بھی امیدوار سیول سرویس میں منتخب نہیں ہوسکا۔ ایس سی، ایس ٹی اور بی سی طلبہ کیلئے بھی ان کے اسٹڈی سرکل کوچنگ کا اہتمام کرتے ہیں۔ ایس سی طلبہ کیلئے تلنگانہ اسٹیٹ شیڈول کاسٹ اسٹڈی سرکل نے سال 2022-23 میں 16 امیدواروں کو سیول مینس کی کوچنگ فراہم کی جن میں سے 3 امیدوار انٹرویو کیلئے کوالیفائی قرار پائے ہیں۔ ڈائرکٹر ایس سی اسٹڈی سرکل نے انٹرویو کیلئے کوالیفائی ہونے والے 3 امیدواروں کے نام جاری کئے جن میں ڈی پروین ( ورنگل )، ڈی کرن کمار ( نظام آباد ) اور کے پرنئے کمار ( جنگاؤں ) شامل ہیں۔ ایس سی اسٹڈی سرکل کی کارکردگی سے اگر اقلیتی اسٹڈی سرکل کا تقابل کیا جائے تو مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ حکومت نے میناریٹیز اسٹڈی سرکل کیلئے بجٹ میں 2.5 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں لیکن ایک بھی مسلم اقلیت کا امیدوار سیول سرویس کیلئے منتخب نہیں ہوسکا جبکہ پانچ برسوں میں تقریباً 500 امیدواروں کو کوچنگ اسپانسر کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ دیگر طبقات کے کوچنگ مراکز میں قابل فیکلٹیز کے علاوہ لائبریری اور بہتر سہولتوں کے ساتھ ہاسٹلس موجود ہیں۔ ایس سی اسٹڈی سرکل کی عمارت بنجارہ ہلز میں واقع ہے جہاں اہل امیدواروں کو طعام و قیام کے ساتھ ماہر اور قابل فیکلٹیز کے ذریعہ کوچنگ دی جاتی ہے برخلاف اس کے اقلیتی امیدواروں کو پیانل میں موجود پانچ کوچنگ اداروں سے رجوع کردیا جاتا ہے اور ان کی کوچنگ اور نتیجہ پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ صرف برائے نام تکمیل کے طور پر اقلیتوں کو آئی اے ایس کی کوچنگ کے دعوے کئے جاتے ہیں جبکہ نتائج صفر ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اقلیتی امیدواروں کے بہتر نتائج کیلئے ضروری ہے کہ خود محکمہ اقلیتی بہبود میں مستقل طور پر قابل فیکلٹیز کی خدمات حاصل کی جائیں اور عصری سہولتوں کے ساتھ ہاسٹل تیار کیا جائے جہاں لائبریری اور دیگر سہولتیں موجود ہوں۔ اقلیتی امیدواروں کے انتخاب میں سب سے بڑی رکاوٹ سرپرستوں کی آمدنی کی حد ہے۔ ایسے امیدوار جن کے سرپرستوں کی آمدنی سالانہ دیڑھ لاکھ روپئے ہے وہ آئی اے ایس کوچنگ کیلئے درخواست دے سکتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں آمدنی کی یہ حد ایک لاکھ مقرر کی گئی ہے۔ اقلیتی طبقہ کے متوسط طبقات میں موجود ذہین اور اہل طلبہ اس پابندی کے سبب کوچنگ کے حصول سے محروم ہیں۔ چیف منسٹر کو عہدیداروں نے مشورہ دیا تھا کہ کرناٹک کی طرز پر آمدنی کی حد کو سالانہ 5 لاکھ کیا جائے تاکہ بہتر تعلیمی ریکارڈ رکھنے والے امیدوار کوچنگ میں شامل ہوسکیں۔ موجودہ کوچنگ میں زیادہ تر غیر سنجیدہ امیدوار دکھائی دیتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو خانگی اداروں میں ملازمت کرتے ہوئے کوچنگ حاصل کررہے ہیں جس کے نتیجہ میں وہ کوچنگ پر زیادہ وقت نہیں دے سکتے۔ دیگر طبقات کے کوچنگ سنٹرس کی طرح اقلیتوں کیلئے بھی خصوصی سنٹر مع اقامتی سہولت قائم کیا جائے اور آمدنی کی حد میں اضافہ ضروری ہے۔ر