ایس پی آفس کے گھیراؤ کی کوشش پر محمد علی شبیر گھر پر محروس

   

اپوزیشن کی آواز دبانے غیر جمہوری طریقہ کار، چیف منسٹر آسام کے خلاف مقدمہ کا مطالبہ
حیدرآباد۔/16 فروری، ( سیاست نیوز) کانگریس قائد راہول گاندھی کے خلاف چیف منسٹر آسام ہیمنت بسوا شرما کے نازیبا ریمارکس کے خلاف شکایت کے باوجود تلنگانہ پولیس کی جانب سے مقدمہ درج نہ کئے جانے پر سپرنٹنڈنٹ پولیس کاماریڈی کے دفتر کے روبرو احتجاج کا منصوبہ رکھنے والے کانگریس کے سینئر قائد اور سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر کو پولیس نے گھر پر محروس کردیا۔ محمد علی شبیر نے آج صبح حیدرآباد سے کاماریڈی کیلئے روانہ ہونے والے تھے لیکن پولیس نے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں دی۔ گھر پر نظر بندی کے سلسلہ میں پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کی ہدایت پر جوبلی ہلز میں واقع قیامگاہ کے روبرو پکیٹ تعینات کیا گیا۔ محمد علی شبیر نے پولیس عہدیداروں سے کہا کہ وہ حیدرآباد میں نہیں بلکہ کاماریڈی روانہ ہورہے ہیں لیکن پولیس نے اجازت نہیں دی۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر پولیس کے ذریعہ اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر غیر جمہوری انداز میں اپوزیشن کو نشانہ بنایا گیا تو وہ دن دور نہیں جب عوام حکومت کے خلاف آواز بند کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر آسام کے خلاف مقدمات درج نہ کرنے پر پارٹی نے کمشنریٹس اور ایس پی دفاتر کے روبرو احتجاج کا منصوبہ بنایا تھا۔ پولیس نے کل رات تک احتجاج کے بارے میں کوئی اعتراض نہیں کیا لیکن آج صبح اچانک انہیں گھپر پر محروس کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر سیاسی مقصد براری کیلئے رنگ اور لہجہ بدلنے کے ماہر ہیں۔ انہوں نے ریاست گیر سطح پر کانگریس قائدین اور کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت کی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر نے چیف منسٹر آسام کے بیان کے خلاف ردعمل ظاہر کیا لیکن یہ دکھاوا ثابت ہوا۔ر