ایمرجنسی کی حقیقت کچھ اور دوستوں نے فسانہ بنادیا

   

وینکٹ پارسا
ہر سال ایمرجنسی کی یاد منائی جاتی ہے اور خاص طور پر بی جے پی حکومت نے ایمرجنسی کی یادیں تازہ کرنے کیلئے کئی ایک پروگرامس کا آغاز بھی کیا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس پر ہر سال پرانی اور فرسودہ باتیں دہرائی جاتی ہیں جن کا بنیادی اور اصل مقصد آنجہانی اندرا گاندھی کی کردارکشی اور بدنامی ہوتا ہے ، ویسے بھی آپ دیکھیں گے کہ عوامی یادداشت بہت مختصر ہوتی ہے ۔ بڑے سے بڑے واقعہ کو عوام جلدی فراموش کرجاتے ہیں اور کچھ عناصر یا کچھ سیاسی جماعتیں اس کا بھرپور فائدہ ا ٹھاتے ہوئے جھوٹی اور من گھڑت کہانیاں پھیلانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتی۔ ایسی ہی کہانیوں میں سے ایک کہانی یہ ہیکہ آنجہانی وزیراعظم اندرا گاندھی ایک ایسے وقت جبکہ 1975 میں ایمرجنسی اپنے نقطہ عروج پر تھی، پولیس کے ہمراہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں داخل ہوئیں تاکہ اس وقت کے جے این یو ایس یو کے صدر سیتا رام یچوری کو ان کے عہدہ سے استعفیٰ دینے کیلئے مجبور کیا جاسکے ۔ یہ کہانی یا دعویٰ نہ صرف مضحکہ خیز ہے بلکہ حقائق کو اس قدر توڑ مروڑکر پیش کیا گیا یا مسخ کیا گیا کہ سچائی ایک مذاق بن کر رہ جائے۔ سب سے پہلے عقل اس بات کو تسلیم ہی نہیں کرے گی کہ ایک وزیراعظم پولیس کی حمایت حاصل کرتے ہوئے اور وہ بھی کسی بھی مقصد کے تحت نجی طور پر یونیورسٹی ہاسٹل پہنچتی ہے۔ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو ایمرجنسی کے نقطہ عروج پر پہنچنے کے دوران ایک وزیراعظم کو جے این یو یا کسی اور یونیورسٹی جانے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی کیونکہ پولیس اپنا کام خود بہتر انداز میں انجام دے سکتی ہے ۔ انصاف کا تقاضہ یہی ہے کہ جس سے یہ واقعہ جوڑا جائے وہ خود اس کی تردید کرے، اس جھوٹی اور من گھڑت کہانی میں بھی ایسا ہی ہوا ۔ خود سی پی ایم لیڈر سیتارام یچوری نے بعد میں میڈیا کے ساتھ بات چیت میں واضح طور پر یہ کہا کہ ایمرجنسی کے دوران جے این یو یا اس کے ہاسٹل میں پولیس کے داخل ہونے کا کوئی واقعہ ہی پیش نہیں آیا ۔ تیسری اور سب سے اہم بات بلکہ بنیادی بات یہ ہے کہ سیتارام یچوری 1975 میں نہیں بلکہ 1977 میں جے این یو ایس یو کے صدر تھے اور یقیناً اندرا گاندھی دو سال قبل پولیس کے ساتھ جے این یو جاکر ان سے استعفیٰ طلب نہیں کرسکتی تھی جبکہ وہ جے این یو ایس یو کے صدر منتخب ہی نہیں ہوئے تھے ۔ چوتھی بات خود سیتارام یچوری کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کے دن ہی اس کے خلاف احتجاج شروع ہوگیا تھا ۔ اس کے علاوہ ایمرجنسی کے دوران سیتارام یچوری جے این یو ہاسٹل میں موجود نہیں تھے بلکہ گرفتاری سے بچنے کیلئے روپوش ہوگئے تھے اور پھر آخر کار انہیں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا جہاں وہ اپنے والدین کے ساتھ مقیم تھے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ جے این یو کو کسی بائیں بازو کے تعلیمی ادارے کے طور پر قائم نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے برعکس پنڈت جواہر لال نہرو کے 27 مئی 1964 کو دیہانت کے 5 سال بعد جے این یو کو اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے ایک عصری و جدید مرکز کے طور پر قائم کیا گیا ۔ اس کا مقصد ایک ایسا علمی ادارہ قائم کرنا تھا جو ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کے سامراج مخالف اور نوآبادیات مخالف بنانے کو فروغ دے اور اسے علمی جواز فراہم کرے۔ اس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ پنڈت جواہر لال نہرو کی خارجہ پالیسی کے نظریات پر توجہ مرکوز کی جائے ۔ نہرو چاہتے تھے کہ ہندوستان فیصلہ سازی میں اپنی مرضی و منشاء شامل رکھے اور فیصلہ سازی میں اپنی خود مختاری برقرار رکھے جبکہ سرد جنگ کے دوران دنیا کی دو بڑی طاقتوں (سپر پاورس) یا بلاکس میں سے کسی ایک کے تابع نہ ہوسکے ، طاقت کے ایک بلاک کی قیادت امریکہ کر رہا تھا اور دوسرے بلاک کی قیادت سابق سوویت یونین کر رہا ہے ۔ بہرحال جے این یو کی تعلیمی خود مختاری کو برقرار رکھتے ہوئے اندرا گاندھی نے 1969 میں قائم ہونے والے اس ادارے کے انتظام و انصرام میں مداخلت سے گریز کیا ۔ ایسا کرنا اس ادارے کے قیام کے بنیادی مقصد کو ہی ناکام بنادیتا ، بعد میں نظریاتی جماعتیں ، پہلے بائیں بازو اور پھر دائیں بازو کی جماعتیں جے این یو پر اثر و رسوخ قائم کرنے میں کامیاب ہوگئیں لیکن جے این یو کی بانی اندرا گاندھی نے کبھی ایسی کوشش نہیں کی۔ آپ کو بتادیں کہ اندرا گاندھی بیک وقت وزیراعظم اور جے این یو کی چانسلر بھی تھیں ۔ ایمرجنسی کے عروج کے دوران بھی انہوں نے جے این یو کے امور میں مداخلت سے گریز کیا ۔ ان کا ایقان تھا کہ ان کی مداخلت اس باوقار تعلیمی ادارہ کو کزور کردے گی جسے انہوں نے بڑی محنت اور لگن سے تعمیر کیا تھا۔ یہ بات تعلیمی معیار اور آزادی سے ان کی وابستگی کو بخوبی ظاہر کرتی ہے ۔ جہاں تک اندرا گاندھی کا سوال ہے، وہ جمہوریت پسند تھیں۔ انہوں نے 25 جون 1975 کو ایمرجنسی جسے غیر معمولی اقدام کا سہارا صرف ایک غیر معمولی صورتحال کے جواب میں لیا جو اندرون ملک پیدا ہونے والی سنگین بدامنی اور انتشار کا نتیجہ تھی ۔ مثال کے طور پر مرکزی وزیر ریلوے للت نارائن مشرا کا قتل ، چیف جسٹس اے این رے پر جان لیوا حملہ ، وزیراعظم اندرا گاندھی کی رہائش گاہ کا محاصرہ تاکہ وہ باہر جاسکیں اور نہ ہی رہائش گاہ میں داخل ہوسکیں ۔ ان تمام واقعات کا مقصد قومی حکمرانی کو مفلوج کر کے رکھ دیتا تھا ، ساتھ ہی فوج و پولیس کو حکومت کے احکامات کی تعمیر نہ کرنے پر اکسانا تھا اور ان تمام وجوہات نے اندرا گاندھی کو ایمرجنسی نافذ کرنے پر مجبور کیا ۔ آپ کو بتادوں کہ نومبر 1976 میں آسام کے گوہاٹی سے انڈین یوتھ کانگریس کنونشن سے واپسی کے بعد اندرا گاندھی نے ملک میں عام انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا ، انتخابی نتیجہ کچھ بھی ہو حیرت و دلچسپی کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی شخصیت اندرا گاندھی کو اس فیصلہ سے باز نہ رکھ سکی ۔ اندرا گاندھی نے جمہوریت کے اصل مالک یعنی عوام سے نیا مینڈیٹ یا رائے حاصل کرنے کا عزم مصمم کرلیا تھا ۔
18 جنوری 1977 کو اندرا گاندھی نے اپنی مرضی و منشاء سے اور کسی احتجاجی دباؤ کے بغیر ملک میں عام انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا اور اپنی مرضی کے مطابق انہوں نے ایمرجنسی میں نرمی کی سیاسی قیدیوں کو رہا کیا اور آزآدانہ و منصفانہ انتخابات کا ماحول تیار کیا اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اندرا گاندھی نے انتخابات کو آزادانہ و شفاخانہ بنانے پر اصرار کیا اور انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے سے انکار کردیا چنانچہ مارچ 1977 کے عام انتخابات کے نتائج نے اندرا گاندھی کی دیانت داری اور خلوص کو واضح کردیا۔ آج کے دور میں یہ بات یقیناً حیران کن لگتی ہے ۔ اندرا گاندھی کو رائے بریلی (اترپردیش کے پارلیمانی حلقہ) سے شکست کا سامنا کرنا پڑا اور خاص طور پر اترپردیش جیسی سب سے بڑی ہندی ریاست میں اندرا کی پارٹی کا ایک طرح سے صفایا ہوگیا۔ کانگریس کو سارے شمالی ہند میں بہت نقصان ہوا جس کے نتیجہ میں 1977 میں کانگریس اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھی اور اس طرح کانگریس کو 1947 میں آزادی کے بعد پہلی مرتبہ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اندرا گاندھی نے جے این یو ہاسٹل میں داخل ہونے کے برعکس اکتوبر 1977 میں سیتارام یچوری 500 مظاہرین کی قیادت کرتے ہوئے ان کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دیئے ہوئے تھے ، تب سیتارام یچوری کو بتایا گیا 5 افراد پر مشتمل ایک وفد اندر جاکر اندرا گاندھی سے ملاقات کرسکتا ہے تاہم یچوری نے یہ پیشکش قبول نہیں کی جس پر اندرا گاندھی خود اپنی رہائش گاہ کے باہر آگئیں تاکہ ان سے ملاقات کرسکیں ۔ احتجاجی مظاہرین سے ملاقات کرسکیں۔ اُس وقت ستیارام یچوری نے میمورنڈم پڑھ کر سنایا جس میں اندرا گاندھی سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ چانسلر جے این یو کے عہدہ سے استعفیٰ دیدیں، بعد میں اندرا نے وہ میمورنڈم حاصل کیا اور اپنی قیام میں چلی گئیں اور اس کے فوری بعد انہوں نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے عہدہ چانسلر سے اپنا استعفیٰ دے دیا جبکہ حقیقت یہ تھی کہ پارلیمنٹ نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی ایکٹ منظور کیا تھا جس کے تحت صدر ایک وزیٹر کی حیثیت سے جے این یو چانسلر کا تقرر کرے۔ اندرا گاندھی جے این یو چانسلر کیلئے یقینی پسند تھی کیونکہ وہی اس باوقار تعلیمی ادارے کی تعمیر کے پیچھے کارفرما ذہن تھیں جس نے دنیا بھر میں بہت نام اور شہرت و عزت حاصل کی ۔ اندرا گاندھی کا عہدہ وزارت عظمیٰ پر فائز ہونے کے باعث بحیثیت چانسلر جے این یو تقرر عمل میں نہیں آیا تھا ۔ عہدہ وزارت عظمیٰ سے محروم ہونے کے بعد انہیں جے این یو چانسلر کے عہدہ سے استعفی دینے کی ضرورت بھی نہیں تھی لیکن وہ اندرا گاندھی تھیں جنہوں نے استعفیٰ دیا اور یہی ان کی جمہوریت پسندی کا ثبوت ہے۔