مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کو فروغ دینے مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارامن کی اہم تجاویز، 1.5 لاکھ کروڑ کے اضافی ٹیکس کا فائدہ
نئی دہلی : وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے ہفتہ کو لوک سبھا میں پیش کردہ بجٹ 2025-26 میں مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) کو فروغ دینے کے لیے کئی اہم تجاویز پیش کیں، جن میں ان کی درجہ بندی میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری اور کاروبار کی حد میں توسیع شامل ہے ۔ سیتا رمن نے زراعت کے بعد ایم ایس ایم ای سیکٹر کو ہندوستانی معیشت کا دوسرا انجن قرار دیا اور ان کی تعریف میں ترمیم کرتے ہوئے ان کے پلانٹ اور مشینری میں سرمایہ کاری کی زیادہ سے زیادہ حد 2.5 گنا اور کاروبار کی حد کو دو گنا بڑھا دیا ہے ۔ اس طرح نئی تعریف میں سرمایہ کاری کی زیادہ سے زیادہ حد 1 کروڑ روپے سے بڑھا کر 2.5 کروڑ روپے ، کاروبار کی حد 5 کروڑ سے بڑھا کر 10 کروڑ روپے ، چھوٹے اداروں میں سرمایہ کاری کی حد 10 کروڑ روپے سے بڑھا کر 25 کروڑ روپے اور کاروبار کی حد 50 کروڑ روپے سے بڑھا کر 100 کروڑ روپے ، درمیانے درجے کے اداروں میں سرمایہ کاری کی حد 50 کروڑ روپے سے بڑھا کر 125 کروڑ روپے اور کاروبار کی حد 250 کروڑ روپے سے بڑھا کر 500 کروڑ روپے کر دی گئی۔ موجودہ تعریف میں مینوفیکچرنگ میں مصروف ایم ایس ایم ای میں سرمایہ کاری کی زیادہ سے زیادہ حد 25 لاکھ روپے ، 5 کروڑ روپے اور 10 کروڑ روپے تھی اور سروس سیکٹر میں یہ حد بالترتیب 10 لاکھ، 2 کروڑ اور 5 کروڑ روپے تھی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اس سے ایم ایس ایم ای یونٹس کو اپنے کاروبار کو بڑھانے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے مائیکرو انٹرپرائزز کے لیے کریڈٹ گارنٹی اسکیم کے تحت کور کو 5 کروڑ روپے سے بڑھا کر 10 کروڑ روپے کرنے کی تجویز پیش کی اور کہا کہ اس سے پانچ سالوں میں اس طرح کی یونٹس کو 1.5 لاکھ کروڑ روپے کا اضافی ٹیکس فائدہ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایس ایم ای سیکٹر معیشت کا دوسرا انجن ہے ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک میں 5.7 کروڑ ایم ایس ایم ای یونٹ ہیں، جن میں سے ایک کروڑ رجسٹرڈ یونٹ ہیں۔ ان میں سے 7.5 کروڑ لوگوں کو روزگار ملا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایس ایم ای سیکٹر ہندوستان کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کی کل پیداوار میں 36 فیصد اور برآمدات میں 45 فیصد حصہ ڈال کر ہندوستان کو مینوفیکچرنگ کا عالمی مرکز بنانے میں اہم رول ادا کر رہا ہے ۔ سیتا رمن نے کہا کہ ایم ایس ایم ای کی نئی تعریف میں سرمایہ کاری کی حد کو 2.50 گنا اور ٹرن اوور کی حد کو دو گنا بڑھانے سے ان اکائیوں کو سرمایہ کاری بڑھانے اور نئی ٹیکنالوجی حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔