ہیلتھ کارڈس اور کیرئیر گائیڈنس پروگرام کا بھی آغاز، ’’ہمت ڈے‘‘ سے محمد لطیف خان، بی شفیع اللہ اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ یکم جنوری (سیاست نیوز) ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یتیموں اور یسیروں کے ساتھ شفقت، محبت و ہمدردی کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ یتیموں کی دعائیں یقینا انسان کی نہ صرف درازیٔ عمر کا سبب بنتی ہے بلکہ اس کی ترقی و خوشحالی، کامیابی و کامرانی کی راہیں بھی ہموار کرتی ہیں۔ اللہ عزوجل اُن بندوں پر رحم و کرم کی بارش کرتا ہے جو یتیم بچوں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھتے ہیں، ان کی مدد کرتے ہیں، ان کی دلجوئی کرتے ہوئے ان کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتے ہیں جبکہ دین اسلام میں ماں کا جو اعلیٰ مقام ہے اس بنیاد پر ہم بلاجھجک کہہ سکتے ہیں کہ ماں ہمت ہے اور ہمت میں جیت ہے۔ ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ ’’جس نے تین یتیموں کی پرورش کی وہ ایسا ہے جس نے رات بھر عبادت کی، دن میں روزہ رکھا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا‘‘۔ ان خیالات کا اظہار ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کے زیراہتمام محبوب پرائیڈ کاروان روڈ میں منعقدہ تیسرے ’’ہمت ڈے‘‘ کے موقع پر ماہرین تعلیم، آئی اے ایس و آئی ایف ایس عہدیداروں اور علماء نے اپنے خطاب میں کیا۔ واضح رہے کہ ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی اپنے صدرنشین جناب محمد لطیف میموری خان کی قیادت و صدارت میں ہر سال ایم ایس کے اسکولوں میں زیرتعلیم یتیم بچے، بچیوں اور ان کی ماؤں کی حوصلہ افزائی کے لئے اس پروگرام کا اہتمام کرتی ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں طلباء و طالبات، ان کی مائیں اور اہم شخصیتیں شرکت کرتی ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ فی الوقت ایم ایس کے مختلف اسکولوں میں 2213 یتیم طلباء و طالبات زیرتعلیم ہیں اور انھیں وہاں مختلف مراعات دی جاتی ہیں۔ ہمت ڈے کی خاص بات یہ ہے کہ ہر نئے سال کے پہلے دن منائے جانے والے اس یوم میں یتیم طلباء و طالبات ایم ایس کے ذریعہ ایم بی بی ایس میں فری سیٹس حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کی گلپوشی کے بجائے اسٹیتھ اسکوپ پیش کرکے تہنیت پیش کرتے ہیں۔ اس مرتبہ 23 آئی آئی ٹینس IITIANS کو ان بچوں کے ہاتھوں گولڈ اور سیلور میڈلس پیش کئے گئے۔ صدرنشین ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی محمد لطیف میموری خان نے اپنے خطاب میں اپنی والدہ مرحومہ زیب النساء کی یادیں تازہ کرتے ہوئے اور اپنی اولاد کے تئیں ان کی قربانیوں اور ایک بیوہ کی حیثیت سے ان کی جدوجہد سے پُر زندگی پر روشنی ڈالی کر شرکاء کو اشکبار کردیا۔ انھوں نے بتایا کہ آج وہ جو کچھ بھی ہیں اپنی ماں کی قربانیوں کے نتیجہ میں ہی ہیں کہ اللہ عزوجل نے قدم قدم پر ان کی مدد فرمائی۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہاکہ ایم ایس نے اپنے تعلیمی اداروں میں تعلیم پارہے 2213 یتیم طلباء و طالبات کی ماؤں کو روزگار سے جوڑتے ہوئے انھیں بااختیار بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لئے ایم ایس تعلیمی اداروں میں کینٹینس ان بیواؤں کے حوالے کئے جائیں گے جن کے ذریعہ انھیں یومیہ کم از کم 300 روپئے کی آمدنی ہوگی اور اگر اس سے کم آمدنی ہوتی ہے تو ایم ایس ایجوکیشن اس کی پابجائی کرے گی۔ اس طرح وہ ماہانہ 6000 تا 7000 روپئے بہ آسانی کماسکتی ہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے یتیم طلباء و طالبات کیلئے کیرئیر گائیڈنس کا خصوصی پروگرام شروع کرنے کا اعلان بھی کیا اور بتایا کہ ایم ایس نے بیواؤں کو بااختیار بنانے سے متعلق پروگرام کے تحت 26 جنوری سے فروغ مہارت پروگرام شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ یتیم طلباء و طالبات اور ان کی بیوہ ماؤں کو ہیلتھ کارڈ بھی فراہم کیا جائے گا۔ ان تمام پروگرامس کے لئے ایکسیس فاؤنڈیشن، صفا اور مجتبیٰ ہیلپنگ ہینڈ ایم ایس ایجوکیشن کے ساتھ تعاون و اشتراک کریں گے۔ اس موقع پر سکریٹری تلنگانہ میناریٹی ریسیڈنشیل اسکولس بی شفیع اللہ آئی ایف ایس، مسٹر فیضان احمد آئی اے ایس، حضرت مولانا ایوب ندوی بھٹکلی، مولانا عبدالرحیم بانعیم، جناب انور احمد منیجنگ ڈائرکٹر ایم ایس، ڈاکٹر محمد معظم حسین سینئر ڈائرکٹر ایم ایس، جناب غوث الدین متین ڈائرکٹر ایم ایس، جناب خواجہ نظام الدین ڈائرکٹر ایم ایس، مفتی ساجد صدیقی فلاحی بھی موجود تھے۔ جناب بی شفیع اللہ نے اپنے خطاب میں کہاکہ آج اقدار پر مبنی تعلیم وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور طلباء و طالبات کو بڑے بڑے خواب دیکھنے چاہئے اور اپنی محنت و جستجو کے ذریعہ ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنا چاہئے۔ انھوں نے یتیم طلباء و طالبات کے تئیں ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کے اقدامات و پروگرامس کی زبردست ستائش کی۔ پروگرام کے ابتداء میں مفتی ڈاکٹر ساجد صدیقی فلاحی کی کتاب The 63 کی رسم اجراء بھی انجام دی گئی۔ آخر میں جناب انور احمد منیجنگ ڈائرکٹر نے شکریہ ادا کرتے ہوئے یتیم و یسیر بچوں اور ان کی دعاؤں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔