ایم ایل اے کوٹہ کونسل انتخاب کیلئے سیاسی جماعتوں میں تیاریاں عروج پر

   

مجلس اور سی پی آئی کا کانگریس پر دباؤ ، بی آر ایس کا 2 امیدوار میدان میں اُتارنے پر غور، بی جے پی انتخاب سے دُور
حیدرآباد۔ 5 مارچ (سیاست نیوز) ریاست میں ایم ایل اے کوٹہ کونسل کی 5 نشستوں کیلئے انتخابی تیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔ یہ عمل پولنگ تک جاری رہے گا یا بلامقابلہ انتخاب ہوگا۔ اس پر سیاسی حلقوں میں چرچہ شروع ہوچکا ہے۔ بی آر ایس اور کانگریس اپنی عددی طاقت کے لحاظ سے 4-1 امیدوار کو انتخابی میدان میں اُتارتے ہیں تو بلامقابلہ انتخاب ہوگا۔ اس انتخاب میں مجلس کا رول کیا ہوگا، اس پر بھی توجہ مرکوز ہے۔ پانچ مخلوعہ ہونے والی نشستوں میں چار بی آر ایس کی ہیں اور ایک مجلس کی ہے۔ ایک ایم ایل سی نشست پر کامیابی کیلئے 20 ارکان اسمبلی کی تائید یا ووٹ دینا ضروری ہے۔ بی آر ایس کے 10 ارکان اسمبلی کانگریس پارٹی میں شامل ہوچکے ہیں۔ اس لحاظ سے مجلس اگر تائید کرتی ہے تو کانگریس کے چار ارکان کامیاب ہوں گے۔ اگر بی آر ایس کی جانب سے پارٹی سے بے وفائی کرنے والوں کو پریشان کرنے کیلئے ایک کے بجائے 2 امیدواروں کو میدان میں اُتارا جاتا ہے تو رائے دہی لازمی ہوجاتی ہے۔ بی آر ایس اپنے ارکان اسمبلی کو وہپ جاری کرتے ہوئے پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دینے کی ہدایت دے سکتی ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں بی آر ایس کے منحرف ارکان اسمبلی کے کیس کو 25 مارچ تک ملتوی کردیا ہے، اور ساتھ ہی اسپیکر کو نوٹس بھی جاری کردی ہے۔ ایسی صورت میں منحرف ارکان اسمبلی کا کیا رول ہوگا، یہ بھی سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ دوسری جانب مجلس بھی ایک نشست کا کانگریس سے مطالبہ کررہی ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ کانگریس کی جانب سے مجلس کو سمجھا جارہا ہے کہ انہیں آئندہ مقامی اداروں کے انتخابات میں موقع فراہم کیا جائے گا، لہذا فی الوقت وہ کانگریس کی تائید کرے۔ اس کے علاوہ سی پی آئی نے بھی ایک ایم ایل سی نشست دینے کا کانگریس پارٹی سے مطالبہ کیا ہے۔ اسمبلی انتخابات کے دوران سی پی آئی اور کانگریس میں اتحاد کے وقت یہ معاہدہ ہوا تھا کہ سی پی آئی کو ایک ایم ایل اے نشست دی جائے گی اور 2 کونسل نشستیں فراہم کی جائیں گی۔ سی پی آئی وعدہ کو پورا کرنے کیلئے کانگریس پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ کانگریس ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے اس مسئلہ کو ہائی کمان سے رجوع کردیا ہے۔ کانگریس پارٹی میں دعویداروں کی بھی لمبی فہرست ہے، تاہم یہ سنا جارہا ہے کہ کانگریس پارٹی سماجی انصاف کرے گی۔ کانگریس ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ہائی کمان سی پی آئی کی جانب جھکاؤ رکھتا ہے۔واضح رہے کہ تلنگانہ اسمبلی میں بی جے پی کے 8 ارکان اسمبلی ہیں ، لیکن وہ انتخابی عمل سے دور رہنے کی کوشش کررہی ہے اور وہ کانگریس یا بی آر ایس کسی کی تائید نہیں کرنا چاہتی ۔ 2