ایم ایل سی الیکشن کے دوران شہر میں کانگریس کارکنوں کی غیر معمولی سرگرمیاں

   

رائے دہندوں کی رہنمائی کیلئے کیمپس کا قیام، نامپلی اسمبلی حلقہ کے 11 بوتھس پر بہتر رائے دہی

حیدرآباد۔گریجویٹ ایم ایل سی نشست حیدرآباد، رنگاریڈی اور محبوب نگر کیلئے شہر میں آج رائے دہی کے موقع پر کانگریس کارکنوں نے غیر معمولی سرگرمیوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارٹی امیدوار ڈاکٹر چنا ریڈی کے حق میں مہم چلائی۔ اسمبلی حلقہ جات نامپلی، مشیرآباد، خیریت آباد، عنبرپیٹ اور جوبلی ہلز میں کانگریس قائدین اور کارکن پولنگ اسٹیشنوں کے پاس رائے دہندوں کی رہنمائی کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ پارٹی کی جانب سے ووٹرس کو سلپس فراہم کئے گئے تاکہ پولنگ بوتھ میں انہیں اپنا سیریل نمبر تلاش کرنے میں دشواری نہ ہو۔ الیکشن کمیشن کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے پولنگ اسٹیشنوں سے دوری پر کیمپس لگائے گئے تھے۔ حلقہ اسمبلی نامپلی کے 11 پولنگ بوتھس پر کانگریس کارکن بطور ایجنٹ موجود رہے اور ٹی آر ایس اور دیگر پارٹیوں کو کسی بھی بوگس رائے دہی سے روکنے میں کامیابی حاصل کی۔ کانگریس قائدین فیروز خاں، راشد خاں اور دوسروں نے وقفہ وقفہ سے پولنگ بوتھس کا دورہ کرتے ہوئے رائے دہی کا جائزہ لیا۔ رائے دہی کے اختتام پر کانگریس قائدین نے دعویٰ کیا کہ دیگر اسمبلی حلقہ جات کے مقابلہ نامپلی میں کانگریس امیدوار کی مہم کامیاب رہی ہے۔ رائے دہندوں نے کانگریس کے حق میں اپنے ووٹ کا نہ صرف استعمال کیا بلکہ رائے دہی کے بعد ٹی آر ایس حکومت کے مخالف عوام فیصلوں کی مذمت کی۔ کانگریس قائدین نے کہا کہ عوام میں چنا ریڈی کے حق میں لہر سے امید کی جاسکتی ہے کہ کونسل انتخابات میں کانگریس پارٹی کامیابی حاصل کرے گی۔ فیروز خاں نے کہا کہ شہر کے تمام اسمبلی حلقہ جات میں پارٹی کی جانب سے بہتر انداز میں مہم چلائی گئی تھی۔ صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی کے علاوہ رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی اور پارٹی کے دیگر سینئر قائدین انتخابی جلسوں میں شریک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جبکہ گریجویٹ ایم ایل سی الیکشن کی رائے دہی میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھا گیا۔ سابق میں گریجویٹس کو ایم ایل سی الیکشن سے دلچسپی نہیں دیکھی گئی اس مرتبہ نہ صرف بڑے پیمانے پر نام فہرست رائے دہندگان میں شامل کرائے گئے بلکہ صبح سے رائے دہی مراکز پر قطاریں دیکھی گئیں۔ گریجویٹ رائے دہندے چونکہ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں لہذا نتائج ٹی آر ایس کے خلاف یقینی ہیں۔