این ڈی اے سے قربتیں اور دوریاں ‘ تلگودیشم کیلئے نئی نہیں

   

گجرات فسادات 2002 اور اے پی کیلئے خصوصی ریاست کے درجہ کے مسئلہ پر چندرا بابو نائیڈو بغاوت کرچکے ہیں ۔ اب تیسری بار مفاہمت
حیدرآباد 8 جون ( سیاست نیوز ) ہندوستان میں مخلوط حکومتوں کا دور کبھی عام ہوا کرتا تھا ۔ دو معیادوں تک مرکز میں بی جے پی نے اکثریتی حکومت چلائی اور اب ایک بار پھر مخلوط سیاست کا دور شروع ہو رہا ہے ۔ اس سیاست میں تجربہ کار سمجھے جانے والے قائدین تلگودیشم پارٹی کے این چندرا بابو نائیڈو اور جنتادل یو کے نتیش کمار کا اہم رول ہوگیا ہے ۔ چندرا بابو نائیڈو نے لوک سبھا کی 16 اور نتیش کمار نے 12 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے اور اب یہ دونوں مرکز میں تشکیل حکومت میں اہم رول ادا کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مودی کی تیسری معیاد میں تلگودیشم کو چار اور جے ڈ؁ یو کو دو وزارتیں بھی حاصل ہونے والی ہیں۔ جہاں تک تلگودیشم کا سوال ہے تو بی جے پی سے دوستی اور پھر قطع تعلق کوئی نئی بات نہیں رہی ہے ۔ ماضی میں ایک سے زائد مواقع پر بی جے پی اور تلگودیشم میں اتحاد بھی رہا ہے اور اختلاف بھی ہوا ہے ۔ ماضی میں گجرات فسادات 2002 اور آندھرا پردیش کیلئے خصوصی ریاست کا درجہ دو ایسے مسائل رہے ہیں جن کی وجہ سے تلگودیشم نے این ڈی اے اور بی جے پی سے دوری اختیار کرلی تھی ۔ جس وقت گجرات میں مسلم کش فسادات ہوئے تھے اس کے بعد ملک بھر میں بے چینی کا اظہار کیا جا رہا تھا ۔ چندرا بابو نائیڈو کے علاوہ نتیش کمار اور ممتابنرجی نے چیف منسٹر گجرات کی حیثیت سے نریندر مودی کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ یہ واضح کیا تھا کہ وہ ایسی صورتحال میں بی جے پی کے ساتھ نہیں رہ سکتے ۔ 1999 میں بی جے پی سے تلگودیشم نے اتحاد کیا تھا اور واجپائی کی مخلوط حکومت میں یہ واضح کردیا گیا تھا کہ اقلیتوں کے خلاف کوئی پالیسیاں روبعمل نہیں لائی جائیں گی ۔ ایسا کرنے سے تلگودیشم کو اپنی ریاست ( متحدہ آندھرا پردیش ) میں مشکل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ 2002 کے گجرات فسادات کے بعد مودی کی تبدیلی کا تلگودیشم نے اصرار کیا لیکن بی جے پی نے ایسا نہیں کیا ۔ 2004 میں بی جے پی کی انڈیا شائننگ مہم بے اثر ہوئی اور وہ اقتدار سے باہر ہوگئی ۔ آندھرا پردیش میں بھی تلگودیشم کو شکست ہوگئی ۔ اس طرح دونوں جماعتوں میں دوریاں پیدا ہوگئیں۔ 2014 میں جب آندھرا پردیش کی تقسیم ہوئی اس وقت بی جے پی نے دوبارہ تلگودیشم کے ساتھ اتحاد کیا تھا اور خود منقسم آندھرا پردیش میں تلگودیشم اور قومی سطح پر بی جے پی کو کامیابی حاصل ہوئی ۔ چندرا بابو نائیڈو کو توقع تھی کہ تقسیم ریاست قانون کے وعدہ کے مطابق آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ بی جے پی حکومت سے حاصل کرلیں گے ۔ تاہم وہ ناکام رہے ۔ انہوں نے دعوی کیا تھا کہ اس مسئلہ پر انہوں نے 29 مرتبہ دہلی کا سفر کیا تھا لیکن بی جے پی حکومت نے اس وعدہ کو پورا نہیں کیا تھا ۔ 2018 میں چندرا بابو نائیڈو نے آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کے درجہ کے مطالبہ پر این ڈی اے سے دوری اختیار کرلی ۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں انہوں نے تنہا مقابلہ کیا ۔ بی جے پی مرکز میں تو کامیاب رہی لیکن نائیڈو آندھرا پردیش میں اقتدار سے بیدخل ہوگئے اور جگن موہن ریڈی کو کامیابی ملی ۔ 2024 لوک سبھا و اسمبلی انتخابات سے قبل چندرا بابو نائیڈو اس اتحاد کیلئے پس و پیش کا شکار تھے تاہم جنا سینا پارٹی کے پون کلیان نے انہیںاس اتحاد کیلئے تیار کرلیا اور تینوں جماعتوں کے اتحاد کو آندھرا پردیش میں زبردست کامیابی حاصل ہوگئی ۔ کہا جا رہا ہے کہ چندرا بابو نائیڈو بی جے پی سے اتحاد تو کرچکے ہیں لیکن وہ بی جے پی پر بریک لگانے کا کام کریں گے اور وہ اختلافی اور نزاعی مسائل سے بی جے پی کو روکیں گے اور اپنی ریاست آندھرا پردیش کیلئے مرکز سے فنڈز اور پراجیکٹس حاصل کرنے پر توجہ دیں گے اسی لئے انہوں نے این ڈی اے کی تائید کا فیصلہ کیا ہے ۔