ایوان میں گلا پھاڑنے، چیخنے سے کچھ نہیں ہوتا : کے ٹی آر

   

قائد مقننہ مجلس اکبراویسی کی برہمی پر وزیر کے ٹی آر کا ردعمل

حیدرآباد۔4۔فروری(سیاست نیوز) ایوان میں گلا پھاڑنے ‘ چیخنے یا چلانے سے کچھ نہیں ہوتا‘ ایوان کے کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہیں ۔ مجلس کے 7 ارکان اسمبلی ہونے کے باوجود انہیں ایک گھنٹہ سے زیادہ وقت فراہم کیا جا رہاہے جبکہ بی آر ایس کے 105 ارکان ہیں پھر بھی انہیں ایک گھنٹہ ہی وقت فراہم کیا جا رہاہے ۔ ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ نے قائد مقننہ مجلس پارٹی جناب اکبر الدین اویسی کی برہمی پر جواب دیتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اکبر الدین اویسی مختصر اسمبلی سیشن کے انعقاد پر برہمی کا اظہار کر رہے تھے جس پر وزیر کے ٹی آر نے کہا کہ وہ اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے بی اے سی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے طئے کرتے ‘ انہو ںنے ایسا کیوں نہیں کیا! ان کے اس ریمارک پر اکبر الدین اویسی نے کہا کہ انہوں نے کیوں شرکت نہیں کی وہ اس بات سے واقف کرواچکے ہیں اور بی اے سی اجلاس میں خود چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے بھی شرکت نہیں کی تو اس پر وزیر کیا کہیں گے! دونوں قائدین میں لفظی جھڑپ جاری تھی اور اکبر الدین اویسی نے مائیک میں بات کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ وہ جو کہہ رہے ہیں اس کا جواب بغیر مائیک کے نہ دیا جائے بلکہ ریکارڈ پر اس کا جواب دیا جائے ۔ اکبرالدین اویسی نے بحث کے دوران کہا کہ وہ ’’تصادم نہیں چاہتے ‘‘ انہو ںنے وزیر کے جواب پر کہا کہ وہ برداشت کی عادت ڈالیں اور عدم برداشت کا شکار نہ ہوں۔ اکبر الدین اویسی اور کے ٹی راما راؤ کے درمیان لفظی جھڑپ کو بند کروانے کے لئے اسپیکر اسمبلی پوچارم سرینواس ریڈی کی کوششوں کے بیچ وزیر امور مقننہ مسٹر ویمولہ پرشانت ریڈی نے مائیک لیتے ہوئے اکبر الدین اویسی کو مشورہ دیا کہ وہ غصہ پر قابو رکھیں اور جن پر غصہ ہے ان پر دکھائیں نا کہ حکومت پر برہمی کا اظہار کریں۔ وزیرامور مقننہ نے قائد مقننہ مجلس پارٹی کو اپنا خطاب گورنر کے خطبہ پر اظہار تشکر تک محدود رکھنے کا مشورہ دیا ۔ جناب اکبر الدین اویسی نے کہا کہ وہ بہ حیثیت سینیئر رکن اسمبلی ایوان کے قوانین و قواعد سے اچھی طرح سے واقف ہیں اور اسمبلی میں وہ کوئی نووارد نہیں ہیں کہ انہیں سب سیکھنا ہے۔ ریاستی وزراء اور اکبر الدین اویسی کے درمیان ہونے والی اس جھڑپ کو اسپیکر اسمبلی نے مداخلت کرتے ہوئے ختم کروایا اور اکبر الدین اویسی کو موضوع پر ہی بات کرنے کی تاکید کی جس پر انہو ںنے وضاحت کی اور کہا کہ خطبہ میں تمام طبقات کی ترقی کا دعویٰ کیا گیا ہے اور وہ اسی پر بات کر رہے ہیں۔