بفرزون اور تالابوں میں اجازت دینے کا شاخسانہ، حیڈرا کے منصوبے سے محکمہ جات میں خوف کا ماحول
حیدرآباد۔27۔اگسٹ(سیاست نیوز) غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کرنے اور ان کے مالکین کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومت کو اب تک کی کاروائی کی تفصیلات پیش کرنے کے بعد ’حیدرا‘ کی جانب سے حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ‘ مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآباد اور محکمہ آبپاشی کے ان عہدیداروں کی نشاندہی کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا جا رہا ہے جنعہدیداروں نے تالابوں کی مکمل سطح آب ‘ بفر زون اور تالابوں میں تعمیرات کی اجازت دی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے ’حیدرا‘ کے عہدیداروں کو ان ملازمین اور عہدیداروں کے خلاف کاروائی کے آغاز کی اجازت دے دی ہے۔بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے ’حیدرا‘ کی جانب سے تالابوں ‘ نالوں ‘کنٹوں میں کی گئی تعمیرات جن کے اجازت نامہ جاری کئے گئے ہیں ان پر جن عہدیداروں کی دستخط موجود ہیں ان کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا جائے گا۔ گذشتہ یوم ’حیدرا‘ کی جانب سے اب تک کی گئی اہم کاروائیوں کے سلسلہ میں تفصیلات اور ان جائیدادوں کے مالکین کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کی تفصیلات جاری کی گئی تھیں اسی طرح حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ‘ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے علاوہ محکمہ آبپاشی کے عہدیداروں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے خلاف کاروائی اور ان کی تفصیلات بھی جاری کی جائیں گی۔ ’حیدرا‘ کے اس فیصلہ کے بعد تینوں ادارہ جات کے عہدیداروں میں خوف و ہراس پیدا ہوچکا ہے اور اپنی غلط کاریوں اور غیر قانونی حرکتوں کی پردہ پوشی کی کوششوں کاآغاز کرچکے ہیں اور اپنے اعلیٰ عہدیداروں سے اس سلسلہ میں مشاورت کرنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اب تک جن عمارتوں کا انہدام کیاگیا ہے ان کے لئے اجازت نامہ جاری کرنے والوں کے علاوہ ان عہدیداروں کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی جنہوں نے شکایات موصول ہونے کے باوجود کاروائی سے گریز کیا ہے علاوہ ازیں ان غیر قانونی و غیر مجاز تعمیرات پر خاموشی اختیار کرنے والے عہدیداروں کو بھی نہیں بخشا جائے گا۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اور حکومت نے ’حیدرا‘ کو دیئے گئے مکمل اختیارات کے استعمال اور کسی دباؤ میں آئے بغیر کاروائیوں کو یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے جس کے نتیجہ میں ہر تقریب اور گروپس میں ’حیدرا‘ ہی موضوع بحث بنا ہوا ہے۔3