ایڈیشنل سیشن جج تبسم خان فرقہ پرستوں کے نشانہ پر کیوں

   

سیاست فیچر
آج کل مدھیہ پردیش کے ضلع نرمدا پورم کی ایڈیشنل سیشن جج تبسم خان کے کافی چرچے ہیں اور یہ چرچے ہجومی تشدد کے ایک کیس میں ان کی جانب سے سنائے گئے ایک فیصلہ کے نتیجہ میں ہو رہے ہیں۔ جون 2026 میں انہوں نے جو فیصلہ دیا اس کے بعد تبسم خان نے سارے ملک کی توجہ حاصل کرلی۔ دراصل جج تبسم خان نے مویشیوں کو منتقل کرنے والے ایک ٹرانسپورٹر نذیر احمد کی گاؤ رکھشکوں کے ہاتھوں قتل مقدمہ میں 7 ملزمین کو سزائے عمر قید سنائی جس کے ساتھ ہی فرقہ پرستوں نے ان کے خلاف آن لائن فحش مہم شروع کردی۔ فرقہ وارانہ خطوط پر انہیں نشانہ بناتے ہوئے سنگین نتائج یہاں تک کہ قتل کرنے کی دھمکیاں تک دی گئیں۔ ان دھمکیوں کے بیچ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے از خود نوٹ لیتے ہوئے مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت کو جج تبسم خان کے لئے پولیس تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت دی تاکہ ان کے ساتھ ساتھ عدلیہ کی آزادی کا بھی تحفظ ہوسکے۔ آپ کو بتادیں کہ نرمدا پورم، نرسنگھ پور ڈیویژن کے تحت آتا ہے۔ نرمدا پورم کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج تبسم خان کو ان مذکورہ فیصلہ کی وجہ سے دھمکیاں دینے اور ان کے خلاف گندی مہم شروع کی گئی جس پر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے غیر معمولی طور پر حرکت میں آتے ہوئے نہ صرف اس کا از خود نوٹ لیابلکہ خاتون جج کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے والوں کے خلاف کی گئی کارروائی کے بارے میں عدالت کو واقف کروانے کی ہدایت بھی دی۔ سب سے اچھی بات رہی کہ جسٹس وویک اگروال اور جسٹس اونندر سنگھ کا کہنا تھا کہ اگر کوئی عدالتی فیصلہ سے متفق نہیں ہے تو وہ اعلیٰ عدالت میں اسے چیالنج کرسکتا ہے لیکن کسی جج کو صرف اس بنیاد پر دھمکیاں نہیں دی جاسکتی کہ انہوں نے کچھ ایسا فیصلہ دیا ہے جو کسی سماج کے طبقہ کو پسند نہ ہو۔ مذکورہ ججس نے اپنے فیصلہ میں یہ بھی پرزور انداز میں کہا کہ جج تبسم خان کو دھمکیاں دنیا ان کے خلاف مہم چلانا جیسے واقعات ہماری عدلیہ کی آزادی اور عدالتی عہدہ داروں کے بے خوف ہو کر فرائض انجام دینے کی صلاحیت پر راست اثر مرتب کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ تبسم خان کو سوشل میڈیا پر ان کی مذہبی پہچان کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا اور پھر ہائی کورٹ کی ہدایت پر پولیس نے کم از کم دو ملزمین کے خلاف ایف آئی آر درج کیا۔ اس کیس کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گاؤ رکھشکوں کے حامیوں نے خاتون جج تبسم خان کے پتلے تک جلائے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ 3 اگست 2022 کے دن امراوتی (مہاراشٹرا) میں لگنے والے ایک میلے کے لئے 30 مویشیوں کو لے جایا جارہا تھا لیکن ٹرک کو براکھڑ گاؤں کے قریب زبردستی روک لیا گیا۔ ٹرک میں تین لوگ سوا تھے جن پر ہجوم نے لاٹھیوں اور سلاخوں سے حملہ کردیا۔ اس حملہ میں نذیر احمد کی موت ہوگئی۔ بہرحال جج تبسم خان کو دھمکیاں دینے والوں کے خلاف نہ صرف قانونی برادری بلکہ عوامی شخصیات بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔ کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا بھی ان میں شامل ہیں۔ پون کھیڑا کے مطابق مودی کے ہندوستان میں نفرت پھیلانے والے آزادانہ گھوم پھر رہے ہیں اور سائبر سیل سزا دینے کی بجائے صرف نوٹسیں بھیج رہا ہے۔ ایک اور اچھی بات یہ رہی کہ اس معاملہ میں سپریم کورٹ ایڈوکیٹس آن ریکارڈ اسوسی ایشن نے بھی تشویش ظاہر کی۔ اسوسی ایشن کے مطابق ضلعی اور تحت کی عدالتیں ہندوستان میں عدلیہ کی ریڑھ کی ہڈی تسلیم کی جاتی ہیں ایسے میں اگر ججس کو اپنے فیصلوں کی وجہ سے شخصی نتیجہ بھگتنے کا ڈر دکھایا جائے گا تو یہ عدلیہ کے لئے بہت خطرناک ثابت ہوگا۔ آپ کو بتادیں کہ ایک ٹیلی ویژن چیانل کے متعصب و جانبدار ایڈیٹر نے جج تبسم خان کے فیصلے کو Judicial lynching قررا دیا اور کہا کہ وہ اس کیس میں خاطی قرار دیئے گئے ملزمین کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بہرحال تبسم خان نے اپنا فرض پورا کیا۔ انہوں نے ان ملزمین کو خاطی قرار دیا جنہوں نے ایک بے قصور انسان کا ایک تاریک سڑک پر بڑی بیدردی سے قتل کردیا۔