ای ڈبلیو ایس سے 10 فیصد تحفظات ، سالانہ 8 لاکھ آمدنی پر استفادہ کے اہل

   


حصول سرٹیفیکٹ کیلئے مذہب ، ذات اور طبقہ سے کوئی تعلق نہیں
حیدرآباد۔13۔اکٹوبر(سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے معاشی اعتبار سے پسماندہ طبقات کے لئے قومی سطح پر 10 فیصد تحفظات کی فراہمی کا اعلان کیااوران تحفظات سے استفادہ کے لئے کسی مخصوص مذہب‘ ذات اور طبقہ سے تعلق رکھنا ضروری نہیں ہے بلکہ ہندستان کا کوئی بھی شہری مرکز کی جانب سے EWS کے تحت فراہم کئے جانے والے تحفظات سے استفادہ کا اہل ہے بشرطیکہ اس شخص کی سالانہ آمدنی 8لاکھ سے زائد نہ ہو۔حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے اعلامیہ کے مطابق ایس سی ؍ ایس ٹی اور بی سی طبقات جنہیں تحفظات حاصل ہیں ان کے علاوہ کوئی بھی ہندستانی شہری جس کی آمدنی سالانہ 8لاکھ سے کم ہے وہ EWS سرٹیفیکیٹ حاصل کرتے ہوئے 10 فیصد EWSکوٹہ میں تحفظات کے حصول کا مجاز قرار دیا گیا ہے۔ ریاست تلنگانہ میں ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی جانب سے مسلمانوں کو بی سی (ای) زمرہ میں تحفظات کی فراہمی کے اقدامات کئے گئے تھے اور 4 فیصد تحفظات سے استفادہ حاصل کرنے والوں کی فہرست میں سید ‘ پٹھان ‘ عرب اور مغل کو شامل نہیں کیا گیا تھا لیکن بی سی (ای) زمرہ کو دیئے جانے والے 4فیصد تحفظات سے محروم یہ تمام طبقات مرکزی حکومت کی جانب سے دیئے جانے والے 10 فیصد EWS تحفظات سے استفادہ حاصل کرسکتے ہیں۔ ہندستان میں عام زمرہ کے معاشی طور پر پسماندہ شہریوں کے لئے مرکزی حکومت کی جانب سے فراہم کئے جانے والے 10 فیصد تحفظات سے مسلمانوں کی بڑی تعداد استفادہ حاصل کرسکتی ہے کیونکہ مرکزی حکومت نے حد آمدنی کے علاوہ کوئی شرط عائد نہیں کی ہے اور صرف ان لوگوں کو اس اسکیم سے باہر رکھا گیا ہے جو تحفظات کے ثمرات حاصل کر رہے ہیں۔ مرکزی حکومت کے ان تحفظات سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے کئی خاندان اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکتے ہیں جو معاشی اعتبار سے پسماندہ ہیں اور EWS اسکیم میں معاشی پسماندگی کا پیمانہ سالانہ 8لاکھ روپئے سے کم آمدنی ہے ۔م