نظام آباد۔ 20 اکتوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ال نینو کے ممکنہ موسمی اثرات، بارش کی کمی اور زیرِ زمین آبی سطح میں گراوٹ کے باعث تلنگانہ کے اضلاع نظام آباد اور کاماریڈی میں دھان کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، جس سے کسانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ آبپاشی کے لیے پانی کی عدم دستیابی، بورویلوں کے خشک ہوجانے، برقی سربراہی کے مسائل اور زرعی اخراجات میں مسلسل اضافے نے چھوٹے اور متوسط کسانوں کے ساتھ ساتھ کرایہ کی زمین پر کاشت کرنے والے کسانوں کو بھی شدید مالی بحران سے دوچار کردیا ہے۔ فصلوں کی تباہی کے باعث کسانوں کے لیے قرضوں کی ادائیگی اور آئندہ فصل کی کاشت کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی مکمل طور پر زراعت پر منحصر ہے۔ بیشتر کسان اپنی محنت کی کمائی اور دوسروں سے حاصل کردہ قرضوں کے ذریعے کاشت کاری کرتے ہیں۔ فصل کی آمدنی سے قرض کی اصل رقم اور سود ادا کرنے کے بعد اگلے سیزن کے لیے دوبارہ سرمایہ حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں، لیکن فصل سوکھ جانے کی صورت میں ان کی تمام منصوبہ بندی ناکام ہوجاتی ہے۔ کئی کسانوں نے بتایا کہ ان کے پاس نہ رہنے کے لیے مناسب مکان ہے اور نہ ہی آمدنی کا کوئی دوسرا مستقل ذریعہ۔ ایسے حالات میں فصلوں کی تباہی نے انہیں شدید مالی دباؤ اور مایوسی میں مبتلا کردیا ہے۔رواں خریف سیزن کے دوران ضلع نظام آباد میں تقریباً 4.36 لاکھ ایکڑ اور ضلع کاماریڈی میں 3.19 لاکھ ایکڑ اراضی پر دھان کی کاشت کی گئی تھی۔ تاہم پانی کی قلت کے باعث کئی مقامات پر فصلیں سوکھنے لگی ہیں۔ ضلع نظام آباد کے ڈچپلی، اندلوائی، نوی پیٹ، ورنی اور دیگر منڈلوں میں دھان کی فصلوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ ضلع نظام آباد کے نوی پیٹ منڈل میں لکشمی وینکٹیشورا لفٹ اریگیشن اسکیم کے تحت آبپاشی کے لیے نصب بورویل کی موٹر خراب ہوجانے کے باعث تقریباً 200 ایکڑ اراضی پر دھان کی فصل کو نقصان پہنچا ہے۔ موٹر جل جانے کی وجہ سے فصلوں کو بروقت پانی فراہم نہیں کیا جاسکا اور دھان کی بالیاں بننے کے اہم مرحلے پر کھڑی فصل سوکھنے لگی۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق ضلع نظام آباد میں تقریباً 2,500 ایکڑ اور ضلع کاماریڈی میں 1,500 ایکڑ اراضی پر دھان کی فصل کو نقصان پہنچا ہے۔ فی ایکڑ تقریباً 30 ہزار روپے کے زرعی اخراجات کے حساب سے متاثرہ کسانوں کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے۔ کسانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نقصان کا شفاف اور منصفانہ تخمینہ لگاکر معاوضہ جاری کیا جائے، تاکہ وہ قرضوں کی ادائیگی اور آئندہ سیزن میں کاشت کاری کے اخراجات پورے کرسکیں۔ضلع نظام آباد میں رواں مانسون کے دوران معمول سے کم بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یکم جون سے 30 ستمبر تک ضلع میں اوسطاً 945.6 ملی میٹر بارش ہونی چاہیے تھی، لیکن اس کے مقابلے میں صرف 884.7 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس طرح بارش میں تقریباً 6.4 فیصد کمی درج ہوئی۔ محکمہ زیرِ زمین آبی وسائل کے عہدیداروں کے مطابق اس سال ستمبر میں ضلع میں زیرِ زمین پانی کی اوسط سطح 8.63 میٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ گزشتہ سال ستمبر میں یہ سطح 6.03 میٹر تھی۔ اس طرح گزشتہ سال کے مقابلے میں پانی کی سطح تقریباً 2.6 میٹر نیچے چلی گئی ہے۔
پلاسٹک کا استعمال ترک کرنے، پانی کی بچت کرنے کی قرار داد منظور
یلاریڈی۔ 21 اکٹوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) پلاسٹک سے پاک موضع تیار کرنے اور پانی کو ضائع ہونے سے بچاؤرکھنے کیلئے منڈل لنگم پیٹ کے لنگم پلی پنچایت میں قرار داد منظور کرنے پر ضلع اڈیشنل کلکٹر گری نے ستائش کرتے اس فیصلہ کی