باغی ارکانِ پارلیمنٹ ’بے شرم اور بدعنوان‘

   

حکومت فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے میں سرگرم، آدتیہ ٹھاکرے کی مانسون اجلاس کے پہلے دن شدید تنقید
ممبئی۔ 22 جون (یو این آئی) شیوسینا (ادھو بالاصاحب ٹھاکرے ) کے رہنما اور رکن اسمبلی آدتیہ ٹھاکرے نے پیر کو ریاستی اسمبلی کے مانسون اجلاس کے پہلے دن ایکناتھ شنڈے کی قیادت والی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے حالیہ سیاسی بغاوت کو عوامی مینڈیٹ کی خرید و فروخت قرار دیا۔ انہوں نے حکومت پر انتظامی ناکامی، سیاسی جوڑ توڑ اور جمہوری اقدار کو نقصان پہنچانے کے الزامات بھی عائد کیے ۔ آدتیہ ٹھاکرے نے شیوسینا (یو بی ٹی) چھوڑ کر شنڈے دھڑے میں شامل ہونے والے ارکانِ پارلیمنٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’بے شرم‘ اور ’بدعنوان‘قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ارکان اپنی ذاتی طاقت پر منتخب نہیں ہوئے تھے بلکہ ادھو ٹھاکرے کی قیادت، بی جے پی مخالف عوامی رائے اور مہاوکاس اگھاڑی کی مشترکہ طاقت کے سہارے کامیاب ہوئے تھے لیکن اب انہوں نے بی جے پی کے تابع ہونا قبول کر لیا ہے ۔ انہوں نے خاص طور پر دھاراشیو کے رکنِ پارلیمنٹ اوم راجے نمبالکر کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے انہیں خاندان کا حصہ سمجھا تھا، مگر بدلے میں انہیں سیاسی وفاداری سے انحراف کا سامنا کرنا پڑا۔ سابق وزیر آدتیہ ٹھاکرے نے ریاستی حکومت کی مالی ترجیحات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت ایک طرف ’لاڈکی بہین‘ اسکیم، کسانوں کے قرض معافی پروگرام اور بنیادی ترقیاتی منصوبوں کیلئے وسائل کی کمی کا دعویٰ کرتی ہے ، جبکہ دوسری جانب اپوزیشن کے منتخب نمائندوں کو اپنے ساتھ ملانے کیلئے وسائل کی کوئی کمی محسوس نہیں ہوتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی پوری توجہ ریاستی مسائل حل کرنے کے بجائے سیاسی جماعتوں کو توڑنے اور مخالفین کو کمزور کرنے پر مرکوز ہے ، جو جمہوریت کیلئے خطرناک رجحان ہے ۔ ممبئی اور پونے سمیت مختلف شہروں میں پانی کے بحران کا حوالہ دیتے ہوئے آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ موجودہ حکومت فرقہ وارانہ کشیدگی اور سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے میں تو سرگرم ہے ، لیکن عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے دورِ وزارت میں 2021 میں منظور شدہ ڈی سیلینیشن پروجیکٹ اگر وقت پر مکمل ہو جاتا تو آج ممبئی کو پانی کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ انہوں نے قومی شاہراہوں، ریاستی شاہراہوں اور مہاراشٹر انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم آئی ڈی سی) کے سڑک منصوبوں میں مبینہ بدعنوانی کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں۔2024 کے لوک سبھا انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے آدتیہ ٹھاکرے نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی انتخابی نتائج میں مکمل اکثریت حاصل نہ کر سکنے کے بعد اب سیاسی وفاداریاں تبدیل کرا کے اپنی عددی طاقت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ ان کے مطابق عوام نے گزشتہ انتخابات میں بی جے پی کو مکمل اکثریت سے روک دیا تھا، لیکن اب وہ دیگر جماعتوں کے منتخب نمائندوں کو اپنے ساتھ ملا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے ۔اپنے خطاب کے اختتام پر آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ ان کا دھڑا ہی اصل شیوسینا ہے اور آنے والے انتخابات میں عوام سیاسی وفاداری تبدیل کرنے والوں کو مناسب جواب دیں گے ۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ پارٹی کارکن اور عوام شیوسینا (یو بی ٹی) کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہیں گے ۔