بالغ آبادی کی تعداد سے زیادہ نام مہاراشٹرا کی فہرست رائے دہندگان میں

   

شفافیت کے دعویٰ کو کانگریس کا چیلنج، 50 لاکھ اضافی نام شامل کرنے کی شکایت
حیدرآباد ۔9۔جنوری (سیاست نیوز) ملک میں انتخابات کے شفافیت سے انعقاد کے سلسلہ میں سیاسی پارٹیوں کی جانب سے الیکشن کمیشن کے رول پر شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ الیکشن کمیشن نے فہرست رائے دہندگان میں دھاندلیوں اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں الٹ پھیر سے متعلق اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کردیا لیکن کانگریس پارٹی نے مہاراشٹرا کی فہرست رائے دہندگان کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو گھیرنے کی کوشش کی ہے۔ مہاراشٹرا میں آبادی کے اعتبار سے بالغ افراد کی تعداد سے زیادہ فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت کو کانگریس پارٹی نے بے نقاب کیا ہے ۔ کانگریس کے ڈیٹا انالیٹکس ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین پراوین چکرورتی نے انکشاف کیا کہ مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات کے لئے صرف چار ماہ کی مدت میں 50 لاکھ نئے رائے دہندوں کے نام شامل کئے گئے ۔ چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے دعویٰ کیا کہ فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت شفافیت کے ساتھ انجام دی گئی ہے جبکہ کانگریس کے مطابق مہاراشٹرا میں بالغ افراد کی آبادی سے زیادہ نام فہرست رائے دہندگان میں شامل ہیں۔ پراوین چکرورتی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق اسمبلی چناؤ کیلئے جملہ رائے دہندے 9.7 کروڑ درج کئے گئے تھے لیکن اس فہرست میں ریاست کی بالغ آبادی سے زیادہ ناموں کی شمولیت باعث حیرت ہے۔ الیکشن کمیشن کا دعویٰ ہے کہ نئے ناموں کی شمولیت میں کوئی باقاعدگیاں نہیں ہوئی ہیں جبکہ پراوین چکرورتی نے کہا کہ نریندر مودی حکومت نے مردم شماری کے ذریعہ بالغ افراد کی جس تعداد کا تعین کیا تھا، اس سے زیادہ نام فہرست رائے دہندگان میں کس طرح شامل ہوگئے۔ کانگریس پارٹی نے مرکزی وزارت صحت و فیملی ویلفیر کی جانب سے نومبر 2019 میں جاری کی گئی رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ 2024 تک مہاراشٹرا میں بالغ افراد کی آبادی 9.54 کروڑ ہوسکتی ہے جبکہ الیکشن کمیشن میں فہرست رائے دہندگان میں 9.7 کروڑ ناموں کو شامل کیا ہے۔ 1