بجٹ تقریر میں بی آر ایس حکومت پر اہم شعبہ جات کو نظر انداز کرنے کا الزام

   

حیدرآباد۔/19 مارچ، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے بجٹ تقریر میں سابق بی آر ایس حکومت کو مختلف شعبہ جات میں ناکامی اور عوامی وعدوں سے انحراف کیلئے تنقید کا نشانہ بنایا۔ بھٹی وکرامارکا نے کسانوں، طلبہ اور خواتین کو نظرانداز کرنے کے علاوہ ہاؤزنگ، راشن کارڈس، روزگار اور قرض معافی جیسی اسکیمات میں وعدوں سے انحراف کا الزام عائد کیا۔ بجٹ تقریر میں کہا گیا کہ بعض گوشے حکومت کے ہر اقدام پر سوال اٹھانے اور بے بنیاد تنقید کو اپنا وصف بناچکے ہیں، سچائی کی ہردن تشہیر ہونی چاہیئے ورنہ جھوٹ ہی سچ بن جائے گا اور نہ صرف ریاست کو بلکہ قوم اور دنیا کو یہ جھوٹ نقصان پہنچا سکتا ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ سوشیل میڈیا اور ان کے اپنے اخبارات کے ذریعہ جھوٹے قصے کہانیاں پھیلائی جارہی ہیں اورعوامی سوچ و فکر کا استحصال کیا جارہا ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس طرح کے گمراہ کن پروپگنڈہ کا موثر جواب دیں اور عوام کے روبرو مسلسل حقائق پیش کئے جائیں۔ اگر سچائی مسلسل اور واضح طور پر آشکار نہیں کی گئی تو پھر خطرہ اس بات کا ہے کہ مفاد پرست افراد کے ذریعہ پھیلائے گئے جھوٹ کو عوام سچ سمجھنے لگ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سچائی کو سامنے لانے کیلئے مسلسل جدوجہد کررہے ہیں۔ حکومت ریاست کی طویل مدتی فلاح و بہبود کے عہد پر قائم ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے دریائے گوداوری و کرشنا میں تلنگانہ کے حصہ کو حاصل کرنے میں سابق حکومت پر ناکامی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت دریائے کرشنا اور گوداوری کے پانی میں تلنگانہ کے حصہ کے حصول کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔ سابق حکومت نے آندھرا پردیش کو سرکاری طور پر 511 ٹی ایم سی پانی کے استعمال کی اجازت دی جس سے تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ تلنگانہ کے حقوق کو حاصل کرنے کیلئے حکومت نے برجیش کمار ٹریبیونل کے روبرو ٹھوس دلائل پیش کئے ہیں۔ بھٹی وکرامارکا نے کسانوں سے وعدوں کی تکمیل، طلبہ کو روزگار کی فراہمی، خواتین کو بلاسودی قرض کی اجرائی کے علاوہ ڈبل بیڈ روم مکانات اور راشن کارڈس کی اجرائی میں ناکامی کا سابق حکومت پر الزام عائد کیا۔1