آئندہ دو دنوں میں چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کا قطعی فیصلہ
حیدرآباد۔24فروری(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے بجٹ 2022-23 میں محکمہ تعلیم اور صحت کو ترجیح دینے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ حکومت کی ہدایا ت کے مطابق بجٹ کی تیاری کے دوران ریاست میں تعلیم کے فروغ‘ اسکولوں کی حالت کو بہتر بنانے کے علاوہ سرکاری دواخانوں میں بہتر سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں حاصل ہونے والی تجاویز کے مطابق بجٹ میں اضافہ کا فیصلہ کیا جائے گا۔ محکمہ فینانس کے ذرائع کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولوں کی حالت کو بہتر بنانے کے علاوہ انفراسٹرکچر کی فراہمی اور سرکاری اسکولوں میں معیار تعلیم کو بہتر بنانے کی جو منصوبہ بندی کی ہے اس کے مطابق شعبہ تعلیم کے بجٹ میں 20 فیصد تک کے اضافہ کی توقع کی جا رہی ہے اور کہاجا رہاہے کہ محکمہ تعلیم کے بجٹ کے ساتھ ساتھ رہائشی واقامتی اسکولوں کے بجٹ میں بھی اضافہ کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے نئے سرکاری دواخانوں بالخصوص تلنگانہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے قیام کے علاوہ قدیم دواخانوں میں انفراسٹرکچر کے علاوہ بستروں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ نئی عمارتوں کی تعمیر کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ صحت کے ان منصوبوں اور حکومت کے اعلانات کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ محکمہ صحت کے بجٹ کو دوگنا بھی کیا جاسکتا ہے کیونکہ گذشتہ تین برسوں کے دوران وبائی صورتحال کے دوران سرکاری دواخانوں میں شہریوں کو مشکلات کی کئی مثالیں سامنے آئی ہیں اور انہیں دیکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے سرکاری دواخانوں میں آکسیجن گیاس پلانٹس کے علاوہ دیگر سہولتوں کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ فینانس کے عہدیدارو ںنے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں محکمہ تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافہ کے سلسلہ میں موصول ہونے والی تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو مطالبات زر کی تفصیلات روانہ کردی گئی ہیں اور توقع ہے کہ چیف منسٹر کی جانب سے آئندہ دو یوم کے دوران دونوں محکمہ جات کے بجٹ کے سلسلہ میں قطعی فیصلہ کریں گے۔ بجٹ 2022-23 کے دوران ریاستی حکومت کی آمدنی کے ساتھ ساتھ ترقیاتی کاموں کے علاوہ اخراجات کا باریکی سے جائزہ لیا جا رہاہے تاکہ محکمہ صحت اور تعلیم کے علاوہ دیگر محکمہ جات کی جانب سے کئے جانے والے مطالبات کو پورا کیا جاسکے۔م