بحیرہ عرب میں بحریہ کی نگرانی میں اضافہ

   

نئی دہلی : ہندوستانی بحریہ نے بحیرہ احمر، خلیج عدن اور وسطی اور شمالی عرب میں بین الاقوامی جہاز رانی کے راستوں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر بحیرہ عرب میں نگرانی بڑھا دی ہے ۔ہندوستانی ساحل سے تقریباً 700 ناٹیکل میل دور ایم وی روئن پر ڈکیتی، اور پوربندر سے تقریباً 220 ناٹیکل میل جنوب مغرب میں ایم وی کیم پلوٹو پر حالیہ ڈرون حملہ، ہندوستانی خصوصی اکنامک زون کے قریب پانیوں میں سیکورٹی کے واقعات کے بدلتے ہوئے منظرنامے کا ثبوت ہیں۔ بحریہ نے ان واقعات کے جواب میں وسطی اور شمالی بحیرہ عرب میں بحری نگرانی کی کوششوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور بحریہ کی تعیناتیوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا ہے ۔ ڈیسٹرائرز اور فریگیٹس پر مشتمل ٹاسک گروپس کو میری ٹائم سیکیورٹی آپریشنز کرنے اور کسی بھی واقعہ کی صورت میں تجارتی جہازوں کو مدد فراہم کرنے کے لیے تعینات کیا گیا ہے ۔ سمندری حدود کی مجموعی آگاہی کے لیے طویل فاصلے کے میری ٹائم گشتی طیارے اور فضائی نگرانی کو بڑھایا گیا ہے ۔ خصوصی اقتصادی زون کی موثر نگرانی کے لیے بحریہ کوسٹ گارڈ کے ساتھ کوآرڈینیشن بھی بڑھا رہی ہے ۔ بحریہ قومی میری ٹائم ایجنسیوں کے ساتھ مل کر مجموعی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے ۔ بحریہ خطے میں تجارتی جہاز رانی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے ۔واضح رہے کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے حال ہی میں کہا تھا کہ سمندری شعبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے پیش نظر ہندوستان سمندر میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کوششیں بڑھائے گا اور حالیہ حملوں میں ملوث افراد کا سراغ لگایا جائے گا۔